خطبات محمود (جلد 22) — Page 219
1941 220 خطبات محمود فلاں صبح کی نماز کے وقت میں مسجد میں گیا مگر تم میری ملاقات کے لئے نہ آئے اور اس لئے نہ آئے کہ فلاں قاضی اس مسجد میں نماز پڑھا کرتا تھا اور میں فلاں ر کی نماز کے وقت مسجد میں گیا مگر تم میری ملاقات کے لئے نہ آئے کیونکہ فلاں پرچی خوراک بانٹنے والا اس مسجد میں نماز پڑھا کرتا تھا۔اور میں فلاں عصر کی نماز کے وقت مسجد میں گیا مگر تم میری ملاقات کے لئے نہ آئے کیونکہ فلاں محتسب اس مسجد میں نماز پڑھا کرتا تھا اور میں فلاں مغرب کی نماز کے وقت مسجد میں گیا مگر تم میری ملاقات کے لئے نہ آئے کیونکہ فلاں شخص جو تعلیم کا انتظام کرنے والا ہے وہ امام الصلوۃ تھا اور اس سے تمہاری دشمنی تھی۔اور میں فلاں عشاء کی نماز کے وقت مسجد میں گیا مگر تم پھر بھی میری ملاقات کے لئے نہ آئے کیونکہ تم نے کہا کہ جو امور عامہ سے تعلق رکھتا ہے مسجد میں موجود ہے۔اور چونکہ میری اس سے دشمنی ہے اس لئے میں مسجد میں نہیں جا سکتا۔تب خدا تعالیٰ فرمائے گا اب وہی محتسب، وہی قاضی، وہی امور عامہ کا نمائندہ ، وہی امام الصلوۃ اور وہی خدام الاحمدیہ کے کارکن میری جنت میں جا رہے ہیں۔اب بولو میں مہیں کس طرح جنت میں لے جاؤں اور ان لوگوں کی مجلس میں شریک کر کے تمہارا دل دُکھاؤں جن کی موجودگی کی وجہ سے تم میری ملاقات کے لئے بھی مسجد میں نہ آئے۔اب میرے لئے سوائے اس کے کیا چارہ ہے کہ میں تمہیں دوزخ میں بھیج دوں جہاں تم ان لوگوں کی شکل نہ دیکھ سکو۔مگر کیا تم اس بات کو پسند کرو گے؟ فلاں۔پھر مجھے بتاؤ تو سہی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا عظیم الشان فضل کیا کہ اس نے محمد صلی اللہ وسلم کو جو اس کا آخری شرعی رسول ہے کامل کتاب اور کامل ہدایت اور کامل شریعت دے کر مبعوث کیا اور اسے مبعوث فرما کر دنیا میں مسجد میں قائم کیں اور محمد صلی علیم سے یہ اعلان کرا دیا کہ مَسْجِدِى أَخِرُ الْمَسَاجِدِ 4 یعنی میری مسجد آخری مسجد ہے اور کوئی نہیں جو اس کے مقابلہ میں اپنی مسجد بنا سکے۔اس نے عیسی علیہ السلام کی بتائی ہوئی مسجد کو منسوخ کر دیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کی بنائی