خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 218

خطبات محمود 219 لڑائی ہے ہ ہے 1941 اور وہ اور یہ ملاقات تمہیں نصیب نہیں ہوئی تو تم نے خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کیا۔اگر تم وہی دس یا پندرہ منٹ دنیا کے کسی کام میں صرف کر لیتے تو تمہیں کوئی فائدہ بھی ہو جاتا۔مگر ان نمازوں کے پڑھنے سے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔پس اگر نمازیں پڑھنی ہوں اور ان سے وہ فوائد حاصل کرنے ہوں جو شریعت نے نمازوں کے بیان کئے ہیں تو تمہیں نمازوں کو ان کی شرائط کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔اور جبکہ نماز کی غرض محض خدا تعالیٰ کی ملاقات ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص کس طرح کہہ سکتا ہے کہ فلاں امام الصلوۃ کے ساتھ چونکہ میری لڑائی ہے اس لئے میں نماز میں شامل نہیں ہو سکتا یا چونکہ میری فلاں سے اور وہ سیکرٹری ہے اس لئے میں نماز میں شامل نہیں ہو سکتا یا چونکہ میری فلاں سے لڑائی پریذیڈنٹ ہے اس لئے میں نماز میں شامل نہیں ہو سکتا یا چونکہ میری فلاں سے لڑائی ہے اور وہ قاضی یا محتسہ اس لئے میں نماز میں شامل نہیں ہو سکتا۔آخر میں یہ تو خیال نہیں کر سکتا کہ یہ تمام لڑائیاں امام الصلوۃ کے ساتھ ہی ہیں۔لازماً کسی کی لڑائی امام الصلوۃ کے ساتھ ہو گی، کسی کی قاضی کے ساتھ ، کسی کی سیکرٹری کے ساتھ ، کسی کی پریذیڈنٹ کے ساتھ اور کسی کی محتسب کے ساتھ۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ امام ہی قاضی ہو، امام ہی محتسب ہو ، امام ہی سیکرٹری ہو، امام ہی پریذیڈنٹ ہو اور امام ہی پرچی خوراک تقسیم کرنے والا ہو۔اور چونکہ امام سے دشمنی ہو گئی اس لئے نماز میں بھی آنا چھوڑ دیا گیا۔لازماً لوگوں کے دلوں میں یہی شکوہ ہو گا کہ چونکہ فلاں محتسب یا فلاں قاضی یا فلاں امور عامہ کا کارکن یا فلاں پرچی خوراک تقسیم کرنے والا مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے اور اس سے ہماری دشمنی ہے اس لئے ہم مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جا سکتے۔مگر کیا ایسے لوگوں سے خدا تعالیٰ قیامت کے دن یہ نہیں کہے گا کہ اب میری جنت میں قاضی یا محتسب یا سیکرٹری یا پریذیڈنٹ آنے لگا ہے اور چونکہ جہاں وہ ہو وہاں تم نہیں آ سکتے اس لئے تم جنت میں نہ آؤ بلکہ دوزخ میں چلے جاؤ۔پھر کیا خدا ان لوگوں کو یہ نہیں کہے گا کہ