خطبات محمود (جلد 22) — Page 193
خطبات محمود 194 1941 برطانیہ کی کامیابی کے لئے دعا کر رہا ہوں، بتاتا ہے کہ اللہ تعالی اسلام اور احمدیت کے لئے انگریزوں کی فتح کو مفید سمجھتا ہے۔اب احمدی یا تو یہ سمجھیں کہ یہ خواہیں میں نے جھوٹے طور پر بنا لی ہیں اور اگر وہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں تو انہیں ہے اپنے خیالات کی اصلاح کرنی چاہئے۔مجھے متواتر خوابیں آئی ہیں اور متواتر بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت انگریزوں کے حق میں ہے۔مثلاً وہی خواب جس میں مجھے امریکہ سے اٹھائیس سو جہاز بھیجے جانے کی خبر دی گئی تھی بتا رہا ہے کہ الہی منشاء کیا ہے۔اسی طرح خواب میں یہ سن کر کہ انگلستان خطرہ میں ہے میرا گی ہے میرا گھبرا جانا اور پھر اس آواز کا آنا کہ یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے اور پھر عین چھ ماہ کے بعد انگریزوں کی متواتر تائید اور نصرت ہوتے چلے جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ انگریزوں کے ساتھ ہے۔یہ خوابیں ہیں جو گزشتہ عرصہ میں مجھے متواتر آئیں۔اب ان کے خلاف مبائع ہوتے ہوئے وہی شخص طریق اختیار کر سکتا ہے جو اوپر سے تو مبائع ہو اور اندر سے منافق ہو۔ہو۔ورنہ جو سچی بیعت کرنے والا ہے وہ تو ان خوابوں کی صداقت میں ایک لمحہ بھر کے لئے بھی شک نہیں لا سکتا۔بلکہ اس میں سچی بیعت کا بھی سوال نہیں، ایک ہندو، ایک عیسائی اور ایک سکھ بھی جو اپنے اندر تعصب کا مادہ نہیں رکھتا ان خوابوں پر غور کر کے سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔مگر وہ احمدی جو میری بیعت میں شامل ہیں انہیں تو ان خوابوں کی سچائی پر ایسا ہی خص یقین ہونا چاہئے جیسے سورج اور چاند پر یقین ہوتا ہے۔پس ان تمام حالات میں کیا مذہبی لحاظ سے اور کیا سیاسی لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم پورے طور پر انگریزوں کی مدد کریں۔ہمارے مقامی افسروں سے جو ہیں وہ اس عرصہ میں یا تو طے ہو جائیں گے اور اگر طے نہ ہوئے تو لوگ جھگڑ کہتے ہیں یار زنده صحبت باقی