خطبات محمود (جلد 22) — Page 187
1941 188 خطبات محمود ہندوستان میں رہنے والی تمام اقوام کا فائدہ انگریزوں کی فتح میں ہے۔مجھ سے ایک دفعہ ایک سیاسی آدمی نے سوال کیا۔وہ سوال ایسا ہے جو اور بھی کئی لوگوں نے مجھ سے پوچھا ہے۔حتی کہ بعض احمدیوں نے بھی دریافت کیا ہے۔مگر یہ دوست جن کا میں ذکر کرنے لگا ہوں سکھ تھے، انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آ۔انگریزوں سے ہمدردی رکھتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔وہ کہنے لگے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا آپ کے لئے تو اتنی وجہ ہی کافی ہو سکتی ہے کہ انگریزی قوم اب بوڑھی ہو چکی ہے یہ لوگ آج نہیں تو کل گئے لیکن اگر ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے کوئی اور جوان قوم آگئی اور اس نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا تو وہ کم از پچاس ساٹھ بلکہ مزید سو سال تک ہندوستانیوں کو اپنی غلامی کے اندر رکھے گی اور ہندوستانی اپنے حقوق کے حاصل کرنے کی جدو جہد میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔یہ بات سن کر انہوں نے میرے سامنے اس وقت یہی کہا کہ آپ کی یہ بات مجھے معقول معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح اور کئی دوستوں نے وقتاً فوقتاً مجھ سے یہ سوال کیا ہے اور میں ہمیشہ انہیں یہی کہا کرتا ہوں کہ کوئی اول درجہ کا احمق ہی یہ خیال کر سکتا ہے کہ اٹلی اور جرمنی والے اگر جیت گئے تو وہ ہندوستانیوں سے کہہ دیں گے کہ تم اپنی جگہ خوش رہو اور ہم اپنی جگہ خوش ہیں۔آج تک گورنمنٹوں نے کبھی ایسا نمونہ نہیں دکھایا اور ناممکن ہے کہ وہ ایسا نمونہ دکھا سکیں۔یقینا اگر جرمنی اور اٹلی والے جیت گئے تو جتنے ممالک پر وہ قبضہ کر سکتے ہیں ان پر وہ قبضہ کر لیں گے اور پھر ان کا قبضہ نئے سرے سے اور نئے اصول کے ماتحت ہو گا جیسے انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں کے لوگوں پر بڑی بڑی سختیاں کیں اور جب غصہ نکل گیا تو اعتدال پر لے آئے۔ورنہ غدر کے بعد انگریزوں نے جو جو کارروائیاں کی ہیں ان کا ذکر سن کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔اس وقت کے کئی چشم دید واقعات کا ذکر میں نے بھی سنا ہے۔ہمارے اپنے پڑنانا کا حال ہماری نانی صاحبہ سنایا کرتی تھیں کہ غدر کے دنوں میں وہ سخت بیمار تھے۔ایک دن اچانک انگریزی فوج کے