خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 123

*1941 123 خطبات محمود اس لئے دونوں قسم کی طبائع کو مد نظر رکھ کر رسول کریم صلی یم نے دو مختلف احکام دے دیئے۔وہ لوگ جو اپنی طبیعت میں جوش رکھتے ہیں وہ آمین بالجہر کہہ لیا کریں اور جو خاموش طبیعت ہیں ان کے لئے شریعت نے دل میں ہی آمین کہہ لینے کا دروازہ کھول دیا۔اسی طرح بعض لوگ حرکات سے اظہار عقیدت میں زیادہ لذت محسوس کرتے ہیں ان کے لئے شریعت نے رفع یدین کا حکم رکھ دیا مگر بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جنہیں حرکات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سکون کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لئے شریعت نے رفع یدین کی صورت کو اڑا دیا۔اسی طرح ہاتھ باندھنا ہے کوئی شخص سپاہیانہ طبیعت رکھنے والا ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہاتھ اونچے باندھے۔اس کے لئے شریعت نے نماز میں ہاتھ اونچے باندھنے کا مسئلہ رکھ دیا اور کوئی ایسا ہوتا ہے جو بڑھا اور بیمار ہوتا ہے اس کے ہاتھ اوپر اٹھتے ہی نہیں اور خود بخود نیچے ڈھلک جاتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے شریعت نے یہ آسانی رکھ دی کہ وہ نیچے ہاتھ باندھ لیا کریں۔غرض رسول کریم صلی اللہ کریم نے دونوں طبائع کا خیال رکھ لیا اور ہر ایک کے حسب حال حکم دے دیا۔مجھے ایک دفعہ ان معنوں کا بڑا لطف آیا۔میں بیمار تھا اور نماز پڑھ رہا تھا کہ یکدم مجھے محسوس ہوا کہ ضعف کی وجہ سے میں نے ہاتھ نیچے باندھے ہوئے ہیں۔اُس وقت مجھے خیال آیا کہ شریعت کی یہ اجازت دراصل اسی لئے ہے کہ ہر طبیعت کا آدمی فائدہ اٹھا سکے۔ایک بیمار آدمی جو ہاتھ اوپر باندھ ہی نہیں سکتا اس سے شریعت یہ کس طرح مطالبہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ ضرور اوپر باندھے۔پس بیمار اور کمزور یا سکون رکھنے والی طبیعت کے انسان کے لئے ہاتھ نیچے باندھنے کی رسول کریم صلی اللہ کریم نے اجازت دے دی مگر جو ہمت والا اور قوی اور اور سپاہیانہ روح اپنے اندر رکھتا ہے اس کے لئے ہاتھ اوپر باندھنے کا حکم دے دیا۔اس طرح ایک ہی کلمہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام جھگڑے طے کر دیئے اور ان نادانوں کو جو رسول کریم صلی ایم کی ایک حدیث کو تندر ہے سة الله ضعیف اور دوسری کو قوی قرار دیتے تھے بتا دیا کہ دونوں حدیثیں ہی قوی ہیں البتہ