خطبات محمود (جلد 22) — Page 102
$1941 102 خطبات محمود اعتراض کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوتا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان باتوں کے دلائل موجود نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل سے ناواقفیت ہے اور اس کی کسی بات کا بار بار سامنے آتے رہنا ہے۔لوگ اس چیز کے بار بار سامنے آنے کی وجہ سے دلائل پر غور نہیں کرتے اور اس کی حقیقت معلوم کرنے سے غافل رہتے ہیں۔پس تم مت خیال کرو کہ جب تم کہتے ہو کہ سچ بولنا چاہئے تو تمہارا بچہ بھی جانتا ہے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔وہ اس بات کو ہر گز نہیں جانتا کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔تم مجھے یہ کہنے میں معاف کرو کہ تم جو کہتے ہو کہ ہمارا بچہ جانتا ہے کہ اسے سچ کیوں بولنا چاہئے تم خود بھی نہیں جانتے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔اسی طرح تم میں سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ محنت کریں۔یہ بات تو سب جانتے ہیں وہ مجھے یہ کہنے میں معاف کریں کہ ان کے بچے تو کیا وہ خود بھی نہیں جانتے کہ محنت کس قدر ضروری چیز ہے۔کہ ان چیزوں کے متعلق بہت زیادہ زور دینے، بار بار توجہ دلانے اور زیادہ سے زیادہ ان کی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے۔ہے ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے کانوں میں بار بار یہ باتیں ڈالیں۔اسی طرح اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں کے دماغوں میں ان چیزوں کو راسخ کر دیں۔اور ان باتوں کی گرید، تلاش اور جستجو کا مادہ ان میں پیدا کریں۔کیونکہ لوگ سچائی کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے۔وہ صرف سچ کا لفظ جاننا ہی وہ کافی سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح وہ نہیں جانتے کہ محنت کتنی ضروری چیز ہے۔بلکہ صرف محنت کے لفظ کو رٹ لینا اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اسی طرح لوگ جھوٹ سے بچنے کے الفاظ تو سنتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ جھوٹ کیا ہو تا ہے۔اسی طرح انہوں نے بنی نوع انسان کی محبت اور خیر خواہی کے الفاظ سنے ہوئے ہوتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ محبت اور خیر خواہی کیا ہوتی ہے۔اسی طرح انہوں نے غیبت کا لفظ سنا ہوا ہوتا ہے مگر جانتے نہیں کہ غیبت کیا ہوتی ہے۔یہ