خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 483

$1940 482 خطبات محمود چھپوا کر لگا دی گئی ہیں۔غلط نامہ بھی چھپ جائے گا اور اس طرح صحت کی پوری پوری کوشش کی جارہی ہے۔اب جماعت کا فرض ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم کی تفسیر تو کوئی انسان نہیں لکھ سکتا اور اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآنی مطالب سارے یا آدھے یا سوواں حصہ بلکہ ہزاروں حصہ بھی بیان کر دیئے گئے ہیں کیونکہ قرآن غیر محدود خدا کا کلام ہے۔اس لئے اس کے علوم بھی غیر محدود ہیں۔اور اس نسبت سے ہم اس کے مطالب کا نہ کروڑواں اور نہ اربواں حصہ بیان کر سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانہ کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری باتوں پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔مجھے اس خیال سے شدید ترین نفرت ہے کہ تفاسیر میں سب کچھ بیان ہو چکا ہے۔ایسے خیال رکھنے والوں کو میں اسلام کا بدترین دشمن خیال کرتا ہوں اور احمق سمجھتا ہوں۔گو وہ کتنے بڑے بڑے جسے اور پگڑیوں والے کیوں نہ ہوں اور جب میرا دوسری تفسیروں کے متعلق یہ خیال ہے تو میں اپنی تفسیر کی نسبت یہ کیونکر کہ سکتا ہوں۔ہم یہ تو کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے علوم ایک حد تک بیان کر دیں مگریہ کہ قرآن کریم کے یا اپنے زمانہ کے بھی سارے علوم بیان کر دیں اس کا تو میں خیال بھی دل میں نہیں لا سکتا۔قرآن کریم کے نئے نئے معارف ہمیشہ کھلتے رہتے ہیں۔آج سے سو سال کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ ایسے معارف بیان کر سکتے ہیں جو آج ہمارے ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔اور پھر دو سو سال بعد غور کرنے والوں کو اور معارف ملیں گے۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کہنے سے لوگوں کی توجہ تفسیر کی طرف سے ہٹ جائے گی۔اور بعض دفعہ بعض نادان یہ کہہ بھی دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے تو خود کہہ دیا ہے کہ یہ کچھ نہیں۔مگر میں قرآن کریم کے متعلق سچائی کے بیان کو ہر چیز سے زیادہ ضروری خیال کرتا ہوں۔لاکھوں کا تفسیر نہ پڑھنا بہت کم نقصان دہ ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک بھی شخص ہو جو یہ خیال کرے کہ اس تفسیر میں سب کچھ آچکا ہے۔اگر دس کروڑ آدمی بھی یہ خیال کرلیں کہ اس میں کچھ نہیں تو کوئی نقصان نہیں یہ نسبت اس کے کہ ایک بھی یہ خیال کرے کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے۔جو یہ خیال کرے گا کہ اس میں کچھ نہیں وہ تو۔