خطبات محمود (جلد 21) — Page 418
$1940 417 خطبات محمود بھوکے مر رہے ہیں۔اگر وہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں تو سب سے زیادہ حرص کے ساتھ وہ غلہ پر ہی قبضہ کریں گے۔تو یہ امر بھی تو کل کے خلاف تھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ اگر جماعت نے ایسا کیا تھا تو اسے چندہ کی ادائیگی کی طرف بھی رکھنی چاہیے تھی اور اس میں کوئی کمی نہیں آنے دینی چاہیئے تھی۔پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک چندہ تحریک جدید ادا نہیں کیا میں انہیں خاص طور پر اس کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اب تحریک جدید کے سال ششم میں قریباً ایک مہینہ باقی ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنی مستی کا ازالہ کر کے چندہ کی کمی کو پورا کریں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں کہ وہ ان پر فضل کرے گا اور انہیں دشمن کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑے گا۔اسی طرح میں باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں بالخصوص تحریک جدید کے کارکنوں اور امراء اور پریذیڈنٹوں کو کہ وہ تحریک جدید کے بقائے ادا کرنے اور وعدوں کے پورا کرنے کی طرف توجہ کریں۔مجھے بعض بیرونی جماعتوں کے خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ بعض امراء اور پریذیڈنٹ اس میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔انہیں اپنی اس غفلت کو دور کرنا چاہیئے اور پوری تندہی اور جانفشانی سے اس میں حصہ لینا چاہیے۔اب تحریک جدید کے چھ سال گزرنے والے ہیں اور صرف چار سال باقی رہتے ہیں۔گویا ہماری منزل نصف سے زیادہ طے ہو چکی ہے۔اس لئے اب ہماری کوششوں کی رفتار پہلے سے بہت زیادہ تیز ہو جانی چاہیئے تا کہ اگر پہلے سالوں میں ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے اچھے انجام کو دیکھ کر اسے دور کر دے۔دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت آپ نے یہ بھی کی کہ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ 1 کے تم پر موت ایسی حالت میں آنی چاہئیے جبکہ تم خدا تعالیٰ کے کامل فرمانبردار ہو۔کیونکہ موت ہی انسان کی زندگی کی آئینہ دار ہوتی ہے اور کام کے انجام ہی اصل چیز ہوتے ہیں۔کسی نے کہا ہے الْأُمُورُ بِخَوَاتِيْمِهَا کہ کام اپنے انجام کے لحاظ سے ہوتے ہیں یعنی کاموں کا اچھایا برا ہونا انجام پر منحصر ہوتا ہے۔