خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 390

$1940 389 خطبات محمود الله سة تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے تقسیم کرنے یا اپنی جماعت کے دوستوں کو ان کے لینے اور پڑھنے سے منع کریں۔جس چیز کو اسلام ناجائز قرار دیتا ہے اور جسے ہم ناپسند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اشتہار بازی یا ٹریکٹوں کی تقسیم وغیرہ سے کوئی فتنہ اٹھایا جائے اور یا پھر ہم اس امر کو نا پسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص رات کو اٹھ کر کسی کے خلاف کارٹون لگا دے۔اگر اس میں جرآت اور دلیری ہے تو وہ کیوں اپنی پنچایت، اپنی مجلس، اپنی جماعت اور اپنی قوم کے بزرگوں کے سامنے اس معاملہ کو نہیں رکھتا اور انہیں کیوں نہیں بتاتا کہ فلاں خرابی کو دور کرنا چاہیئے اس کے معنی تو یہ ہیں کہ اس نے ایک بے دلیل بات بیان کر دی مگر جو جواب دینے والا ہے وہ حیران ہے کہ وسوسہ ڈال کر وہ بھاگ کہاں گیا۔تو یہ چیزیں ہیں جنہیں ہم نا پسند کرتے ہیں لیکن علی الاعلان کسی کو اشتہار یا ٹریکٹ دینا ہر گز کوئی ناپسندیدہ طریق نہیں۔بشر طیکہ اس میں گالیاں نہ ہوں اور بشر طیکہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو۔اگر اس طریق کو روک دیا جائے تو مذہب دنیا میں کبھی پھیل ہی نہیں سکتا۔آخر رسول کریم صلی الی یوم کے جو مخالف تھے انہیں آپ کی باتیں سنا نا گوار ہی گزرتا تھا مگر کیا اس وجہ سے انہیں حق تھا کہ وہ رسول کریم صلی للی نام کو اپنی باتوں کے پھیلانے سے روک دیتے یا اس زمانہ میں تو پریس نہیں تھا مگر کیا موجودہ زمانہ میں غیر احمدیوں کو حق حاصل تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہتے کہ آپ ہم میں اپنے اشتہار یاٹریکٹ کیوں تقسیم کراتے ہیں۔پس اس قسم کی باتوں کو روکنا حماقت کی بات ہے۔ہر قوم کا حق ہے کہ وہ اپنے خیالات کو احسن طریق پر دنیا میں پھیلائے اور چاہے تو اشتہار تقسیم کرے اور چاہے تو ٹریکٹ دے۔یہ لینے والے کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو اپنے لٹریچر کی تقسیم سے روک دے۔یہ تو اشاعت لٹریچر کے متعلق میں نے ایک اصول بیان کیا ہے لیکن میں اسی حد تک اپنی بات کو محدود نہیں رکھتا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ میرے نزدیک کسی قوم کو بُھورے میں بٹھا دینا اس سے انتہاء درجہ کی دشمنی اور اس کی ترقی کی جڑ پر اپنے ہاتھوں سے تبر رکھنا ہے۔جو قوم بھورے میں بند کر کے بٹھا دی جائے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی اور نہ کبھی عزت اور عروج کو حاصل کر سکتی ہے۔ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے بچوں کو گھروں میں سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں