خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 350

$1940 349 خطبات محمود۔اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان درمیانی روکوں کو نہ دیکھیں اور بے پرواہ ہو کر نماز کی طرف دوڑے چلے آئیں۔یہ شوق ہے جو اذان سکھاتی ہے۔مؤذن صرف نماز کے لئے نہیں بلا تا بلکہ بے تابی اور درمیانی روکوں سے بے پرواہ ہو کر دوڑ پڑنے کی تلقین کرتا ہے۔یہ وہ ولولہ ہے جو اسلام مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔اذان میں جس جوش کا حکم دیا ہے اگر اس طرح نہ کیا جائے تو وہ حقیقی نماز نہ ہو گی۔چاہیئے کہ شوق سے (نہ کہ جسمانی طور پر دوڑ کر ، جسمانی طور پر دوڑ کر نماز کے لئے آنا منع ہے کیونکہ اس سے سانس پھول جاتا ہے اور انسان نماز کی طرف پوری توجہ نہیں کر سکتا۔نیز جو دوڑ کر آتا ہے پہلے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور عین وقت پر نماز کے لئے چلتا ہے اور یہ شوق کی زیادتی پر نہیں بلکہ شوق کی کمی پر دلالت کرتا ہے) گرتے پڑتے پہنچو اور نماز کو لے لو۔اس وقت سب کچھ بھول جاؤ اور دماغ میں اور چیزوں کی طرف سے تعطل پیدا ہو جائے۔پس عربی کی یہ خصوصیت ہے کہ الفاظ چھوٹے ہوتے ہیں مگر مطالب وسیع ہوتے ہیں اور یہی حال قرآن شریف کا ہے بلکہ قرآن کریم نے تو تمام اچھے الفاظ چن لئے ہیں۔جس طرح تلوار شمشیر زن کے ہاتھ میں کام کرتی ہے اسی طرح عربی میں سے بھی جو الفاظ خدا تعالیٰ نے چن لئے وہ نہایت وسیع مطالب کے حامل ہیں۔ایک مثال ہے کہ ایک شمشیر زن نے ایک ہی وار میں گھوڑے کے چاروں پاؤں اڑا دیئے۔اس ملک کے شہزادے نے جو دیکھا تو سپاہی سے تلوار مانگی کہ مجھے یہ دے دو۔سپاہی نے نہ دی۔شہزادے نے بادشاہ سے شکایت کی۔بادشاہ غصے ہوا اور سپاہی نے تلوار دے دی لیکن جب شہزادے نے اس تلوار کو استعمال کیا تو گھوڑے کے پاؤں پر اثر بھی نہ ہوا۔یہی فرق دوسرے لوگوں کی عربی اور قرآن کریم کی عربی میں ہے۔بے شک عربی زبان اپنی ذات میں اعلیٰ خصوصیات رکھتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں آکر وہ خصوصیات ایسی شاندار ہو گئی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اس سے اتر کر ان الہامات کا درجہ ہے جو قرآن کریم کے علاوہ محمد رسول اللہ صلی اللی کم پر نازل ہوئے ہیں جیسے اذان ہے۔حَيَّ عَلَى الصَّلوة کے بعد اذان میں حَيَّ عَلَى الْفَلَاح آتا ہے جس کے معنی ہیں کامیابی کی طرف جلدی آؤ، والہانہ آؤ، گرتے پڑتے آؤ۔ان الفاظ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کامیابی کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔بعض لوگ کام کو کل پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ مخالف