خطبات محمود (جلد 21) — Page 335
$1940 334 خطبات محمود ہو میں کون ہوں ؟ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر تعلیم و تربیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں وہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نظارت کو دوسرے معاملات میں بالا سمجھتا ہے حالانکہ نظارت کا اپنا ایک محدود دائرہ ہے۔اس دائرہ سے باہر اس کے اختیارات نہیں یا سلسلہ کا کوئی مربی اور کار کن ایسے مواقع پر اگر یہ کہتا ہے کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں۔میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تو وہ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔مثلاً دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے ہوں تو اگر ایک ایسا شخص جسے نظام نے لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر نہیں کیا وہاں جا کر کہتا ہے کہ میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا عہدہ دوسروں پر رعب جتانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ مربی کا کام لوگوں کی تربیت و اصلاح کرنا ہے نہ کہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنا۔اس کا یہ ہر گز حق نہیں کہ وہ لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے یا اپنا فیصلہ لوگوں سے منوائے۔ہاں اگر کوئی قاضی ہو تو وہ ایسا کہہ سکتا اور اپنا فیصلہ بھی اس جھگڑے کے متعلق دے سکتا ہے تو یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔پس میں جماعت کے تمام عہدیداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس بارہ میں احتیاط ملحوظ رکھیں اور علی الاعلان خطبہ جمعہ میں میں نے اس کا اظہار اس لئے کیا ہے تادوسرے لوگ بھی نگران رہیں اور جب سلسلہ کے کارکنوں میں سے کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کی فوری طور پر میرے پاس رپورٹ کریں۔میں اس بارہ میں اپنا ہی ایک واقعہ سنا دیتا ہوں جس میں میرا نام ایک موقع پر ناجائز طور پر استعمال کیا گیا تھا مگر جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس افسر کو سختی سے ڈانٹا۔وہ واقعہ یہ ہے جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہم قادیان کے ارد گرد دیہات میں اپنے لئے زمینیں خریدتے رہتے ہیں۔اسی سلسلہ میں ہماری طرف سے ایک زمین کا سودا ہوا مگر ابھی یہ سودا ہو ہی رہا تھا کہ ننگل کے ایک شخص نے ہم سے زیادہ قیمت دے کر اس زمین کو خرید لینا چاہا۔اس پر ہمارے مختار نے اسے کہا کہ تم خلیفہ المسیح الثانی کا مقابلہ کرتے ہو یہ تمہارے لئے اچھی بات نہیں۔مجھے جب اس بات کا علم ہوا تو میں نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ اس میں خلیفہ المسیح کا کیا تعلق ہے۔یہ