خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 333

$1940 332 خطبات محمود کسی ایک کی بات بھی نہیں مانی۔میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ مجھ پر کیا آگے ذمہ داریاں کم ہیں کہ اب میں اور ذمہ داریوں کو بھی اٹھالوں۔ممکن ہے میں انتخاب میں کوئی غلطی کر جاؤں اور اس طرح قیامت کے روز خدا تعالیٰ کے حضور مجھے جوابدہ ہونا پڑے۔پس میں کیوں اس بوجھ کو برداشت کروں۔شاید ماں باپ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کا نکاح کرتے وقت ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی مگر میرے نزدیک والدین پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد اپنی لڑکیوں کا نکاح کیا کریں۔اگر وہ بے احتیاطی سے کام لیں گے تو یقینا وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔پس جبکہ نکاح کرانا ایک خاص ذمہ داری کا کام ہے تو بالکل ممکن ہے مجھ سے کسی کے معاملہ میں کوئی بے احتیاطی ہو جائے اور قیامت کے دن باپ تو آزاد ہو جائے اور میں اس کا جوابدہ ٹھہر جاؤں۔پس باوجود اس کے کہ میرے زمانہ خلافت میں سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ کہا ہو گا کہ آپ جہاں چاہیں میری لڑکیوں کا نکاح کر دیں مجھے اس وقت ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جس میں میں نے دخل دیا ہو اور اپنی مرضی سے ان کی لڑکیوں کا کہیں نکاح کر دیا ہو۔میں ہمیشہ انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ جب مجھے کسی رشتہ کا علم ہوا تو آپ کو اطلاع دے دوں گا۔آگے یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ غور کر لیں کہ وہ رشتہ ان کے لئے موزون ہے یا نہیں۔ایسے موقع پر بعض لوگ اصرار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے اپنی لڑکیوں کا معاملہ آپ کے سپر د کر دیا ہے مگر میں یہی کہتا ہوں کہ میں اس کے لئے تیار نہیں۔ہاں جب بھی مجھے رشتوں کا علم ہو گا میں لڑکے آپ کے سامنے پیش کرتا چلا جاؤں گا۔آپ کو پسند آئیں تو لیتے جائیں اور اگر پسند نہ آئیں تو ر ڈ کرتے جائیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کو جو حکومت دی ہے وہ ذاتی معاملات میں نہیں قومی معاملات میں ہے۔رسول کو بھی اور خلیفہ کو بھی اور اولیی الامر کو بھی یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ذاتی معاملات میں لوگوں پر رعب جتائیں۔مثلاً مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ میں جماعت کے کسی آدمی سے یہ کہوں کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں اس لئے تم میری نوکری کرو اور جو تنخواہ میں دوں وہ قبول کرو۔یہ خلافت کا کام نہیں بلکہ ایک دنیوی کام ہے اور ے شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔چاہے یہی کہے کہ