خطبات محمود (جلد 21) — Page 316
$1940 315 خطبات محمود سے اصل واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔یوں تو مجھے کل شام سے ہی یہ پتہ تھا کہ اس قسم کا مظاہرہ ہونے والا ہے۔میں نے اطلاع دہندہ کو منع کر دیا تھا کہ اس میں کوئی دخل نہ دیں اور واقعہ ہونے دیں لیکن مجھے جس رنگ میں اطلاع تھی اس سے کسی قدر فرق کے ساتھ یہ ہوا ہے۔مجھے یہ اطلاع تھی کہ سید منظور علی شاہ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ہمارے مکانات کے گرد چکر لگائیں گے اور نعرے بلند کریں گے۔پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق زندہ باد کے نعرے لگائیں گے پھر میرے متعلق اور پھر یہ کہ ہمیں ایسے ناظر نہیں چاہئیں۔مجھے جو اطلاع ملی اس میں یہ بات نہ تھی کہ مصری پارٹی اور احراری بھی اس میں شامل ہوں گے اور چونکہ یہ ایک شخص کا انفرادی فعل تھا اور جماعت کا اندرونی معاملہ تھا میں نے نہ چاہا کہ اسے روکا جائے اور میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص دیوانگی کی کوئی حرکت کرنا چاہتا ہے تو کرے مگر وقوعہ کسی اور رنگ میں ہوا ہے اور احراریوں نیز مصری صاحب کے ساتھیوں نے بھی اس میں حصہ لیا ہے اور میرے متعلق مُردہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے ہیں اور ان گلیوں میں لگائے گئے ہیں جن میں احمدیوں کی کثرت ہے۔ایسا ہی واقعہ اگر کسی دوسرے بازار میں جہاں غیر احمدیوں کی کثرت نہیں بلکہ معمولی تعداد بھی ہو اگر احمدیوں کی طرف سے کیا جاتا تو گورنمنٹ بے تاب ہو جاتی لیکن اب ہم دیکھیں گے کہ حکومت کیا ایکشن لیتی ہے اور اگر اس نے کوئی ایکشن نہ لیا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ایسی حرکات جائز ہیں اور اس لئے اگر احمدیوں نے کبھی ایسا کیا تو حکومت کو اعتراض کا حق نہ ہو گا اور اگر وہ ہم پر اعتراض کرے گی تو دنیا کی نظروں میں ظالم قرار پائے گی۔اب میں اصل واقعہ کی طرف آتا ہوں یہ فعل کرنے والا احمدی کہلاتا ہے۔اس کا باپ ایک مخلص احمدی تھا اور اس کی والدہ اس کے والد سے بھی زیادہ مخلص تھی اور انہی کے اخلاص کی وجہ سے میں نے اس معاملہ کے متعلق بھی فوری قدم نہیں اٹھایا۔ورنہ مرکز سلسلہ میں نہیں اور سلسلہ کے نظام کے خلاف نہیں بلکہ علیگڑھ کالج کے منتظمین کے خلاف ایک مر تبہ لڑکوں نے مظاہرے کئے اور نعرے لگائے تو ہمارے بھتیجے مرزا عزیز احمد صاحب بھی ان سے مل گئے وہ اس وقت نوجوان تھے اور طالب علمی کی زندگی تھی۔لڑکوں کو شکایت تھی