خطبات محمود (جلد 21) — Page 168
$1940 168 خطبات محمود اپنے دماغ کو ایسا صاف رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی خبروں کو سن سکے۔انسانی خبروں میں تو جھوٹ سچ ملا ہوا ہوتا ہے پھر بندے آج کچھ کہتے ہیں اور کل کچھ مگر خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ ایک طاقت اور قوت ہوتی ہے اور جو بات اس کی طرف سے ظاہر ہو وہ کبھی بدل نہیں سکتی۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے علم حاصل کرنے کی کوشش کیا کریں اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھا کریں۔میرے نزدیک تو وہ نہایت ہی بے شرم انسان ہے جو ازالہ اوہام میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر پڑھتا ہے کہ :۔”ہر یک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئیے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی نا شکر گزار ہیں۔” 3 اور پھر اس تحریر کو پڑھنے کے بعد وہ باہر نکلتا ہے اور خبریں سن کر کہتا ہے کہ آہاہا انگریزوں کو فلاں مقام پر شکست ہوئی۔اس سے زیادہ بے ایمان اور کون شخص ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا مسیح تو کہتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کو انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کرنی چاہیے اور یہ کہتا ہے کہ دعا کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزوں کو شکست ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔میں تو ایسے احمدی کو لعنتی سمجھتا ہوں اور میں تو یقین رکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا بہر حال قبول ہو گی اور اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء کسی اور بڑی حکمت کے ماتحت اس دعا کو قبول کرنے کا نہ بھی ہوا تو بھی اس شخص پر ضرور لعنت پڑ جائے گی کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اس صف میں کھڑا کیا جو خدا تعالیٰ کے مسیح کے دشمنوں کی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر ہمار اذرہ ذرہ اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں رنگین کرنا چاہتے تھے تو پھر ایمان کس چیز کا نام ہے اور اگر ہم ایسے امور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اختلاف رکھنا جائز قرار دیں تو یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کہتے ہیں