خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 159

1940 159 خطبات محمود انہیں شوق ہوا نہیں چاہیے کہ اپنے نام لکھا دیں مگر اب جرمنی کے براڈ کاسٹنگ میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ ہماری قوم کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے۔یہ ایک بڑی بھاری لڑائی ہے جو لڑی جارہی ہے۔ہمیں بے شک کامیابی کی امید رکھنی چاہیئے لیکن بہت جلد کامیابی حاصل کر لینے کا خیال درست نہیں۔حالانکہ آپ ہی تقریر کی تھی جو میں نے خود سنی کہ جو لوگ فرانسیسی الپس پر گرمیاں گزارنا چاہیں یا سیر کا شوق رکھتے ہوں وہ اپنے نام لکھا دیں۔غرض اب جر من بھی یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ لڑائی اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں جتنی جلد ختم ہونے کی انہوں نے امید کی ہوئی تھی۔بہر حال تمام گھبراہٹ اضطراب اور تشویش کا موجب ملک کے وہ نادان لوگ ہیں جن کو حالات کا صحیح علم نہیں ہوتا اور جو جنگی فنون سے ناواقفیت کی وجہ سے خبروں کو کچھ کا کچھ بنا کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں بچپن میں بھی ایسے بیوقوفوں کے قابو کبھی نہیں آیا اور میں نے ہمیشہ ان کے خیالات کو رڈ کیا ہے۔چنانچہ ہندوستانی سپاہیوں سے میں نے بار ہا سنا وہ جب سر حد وغیرہ پر لڑنے کے لئے جاتے تو واپس آکر کہا کرتے کہ انگریز سپاہی تو وہاں صابن پی پی کر بیمار ہو جاتے ہیں مگر ہم دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور مجھے آج تک اپنا یہ جواب بھی خوب یاد ہے کہ اگر انگریز سپاہی ایسے بزدل اور کمزور ہیں تو یہ ہندوستان میں کس طرح آگئے اور اُس وقت تم نے ان کا کیوں مقابلہ نہ کیا؟ غرض یہ بہت ہی بُرا طریق ہے کہ بغیر سوچے سمجھے انگریزوں پر اعتراض کیا جائے اور ان کی کمزوری کی غلط خبریں لوگوں میں پھیلائی جائیں۔انگریزی فوج جس دلیری سے اس جنگ میں لڑ رہی ہے اس کا اعتراف تو خو د جرمنی کو بھی ہے۔چنانچہ جر من براڈ کاسٹنگ سے کہا گیا ہے کہ انگریزی فوج کے متعلق جو امید کی جاتی تھی اس سے بہت زیادہ شاندار طور پر وہ لڑ رہی ہے۔یہ ایک ایسے دشمن کا اعتراف ہے جو خود بھی بہادر ہے اور جس کے اندراگر جرآت نہیں تو تہور ضرور ہے۔پس یہ نہایت ہی غلط طریق ہے کہ قیاسات سے کام لے کر ملک میں بدامنی پیدا کی جائے اور سول وار کے سامان پیدا کئے جائیں۔یہ انگریزوں سے نہیں ہندوستان سے دشمنی ہو گی۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ان حالات کی اصلاح کی کوشش کی جائے وہاں ان