خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 125

1940 125 خطبات محمود ان کا نام ہے اور وکیل ہیں۔جب مجھے ان کی بیعت کا خط آیا تو میں نے سمجھا کہ کالج کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے کوئی نوجوان ہوں گے مگر اب جو وہ ملنے کے لئے آئے اور شوری کے موقع پر میں نے انہیں دیکھا تو ان کی ڈاڑھی میں سفید بال تھے۔میں نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب سے ذکر کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان ہیں اور ابھی کالج میں سے نکلے ہیں مگر ان کی تو ڈاڑھی میں سفید بال آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ تو دس بارہ سال کے وکیل ہیں پہلے احمدیت کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے مگر احمدی ہو کر تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کایا ہی پلٹ دی ہے۔اسی طرح قادیان کا ہی ایک واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب نے سنایا۔وہ فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں مدرسہ احمدیہ کی طرف سے آرہا تھا کہ میں نے دیکھا ایک چھوٹی سی ٹولی جس میں چار پانچ آدمی ہیں مہمان خانہ کی طرف سے آ رہی ہے اور دوسری طرف ایک بڑی ٹولی جس میں چالیس پچاس آدمی ہیں باہر کی طرف سے آرہی ہے۔وہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھہر گئیں اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر آپس میں لپٹ کر رونا شروع کر دیاوہ کہتے کہ مجھے پر اس نظارے کا عجیب اثر ہوا اور میں نے آگے بڑھ کر ان سے پوچھا کہ تم روتے کیوں ہو ؟ اس پر وہ جو زیادہ تھے انہوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو تھوڑے نظر آرہے ہیں یہ ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔ہم لوگوں کو ان کا احمدیت میں داخل ہونا اتنا برا معلوم ہوا، اتنابُر ا معلوم ہوا کہ ہم نے ان پر ظلم کرنے شروع کر دیئے اور یہاں تک ظلم کئے کہ یہ اپنی جائیدادیں اور مکان وغیرہ چھوڑ کر دور کسی اور شہر میں جاہیے۔کچھ عرصہ کے بعد ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ہدایت دی اور ہم بھی احمدیت میں داخل ہو گئے لیکن نہ ہمیں ان کی خبر تھی کہ یہ کہاں ہیں اور نہ انہوں نے پھر ہمارے متعلق کوئی خبر حاصل کی۔آج جلسہ سالانہ پر ہم آئے ہوئے تھے کہ ادھر سے ہم آ نکلے اور اُدھر سے یہ آنکلے اور ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ہمیں ان کو دیکھ کر وہ وقت یاد آگیا جب ہم ان پر ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور جب خدا کی آواز پر لبیک کہنے کی وجہ سے ہم نے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا اور انہیں بھی وہ زمانہ یاد آگیا جب ہم نے انہیں دکھ دیئے تھے