خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 92

1940 92 خطبات محمود نہ یہ چیزیں دیکھیں اور نہ لوگوں سے لڑیں۔تو اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ظاہری شان سے نفرت ہوتی ہے اور وہ صبر و قناعت میں ہی خوش رہتے ہیں۔مگر کامل مومن کا اصل مقام یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جس حال میں رکھے اُس میں خوش رہے۔اگر خداتعالی لاکھوں روپے دے دے تو اس میں خوش رہے اور اگر بھوکا رکھے تو اس حالت میں بھی خوش رہے۔پس جماعت پر اللہ تعالیٰ کے جو فضل نازل ہو رہے ہیں اور جس مقام پر اس نے ہمیں کھڑا کیا ہے ہم سے جو کام لے رہا ہے اور جو لے گا اس کے پیش نظر کسی بھی قربانی کو بڑا نہ سمجھو۔ہماری قربانیاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مقابلہ میں بالکل حقیر ہیں۔پس جو دوست اب تک سستی کرتے رہے ہیں وہ اب چست ہو جائیں اور جو چست ہیں وہ اپنے اندر اور چستی پیدا کریں۔ضمناً میں یہ بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے اپنی طاقت اور حیثیت سے کم وعدے کئے ہیں چونکہ چندوں میں کمی ہے اس لئے وہ اگر بڑھا دیں تو زیادہ ثواب پائیں گے۔عہدیداروں اور دوسرے کام کرنے والوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی چستی سے کام کریں۔ممکن ہے یہ کمی ان کی سستی کی وجہ سے ہو۔میں یہ بات بھی کہہ دینا چاہتاہوں کہ چونکہ پچھلے دنوں ڈاک دفتر میں جاتی تھی اور میرے پاس خلاصے آتے تھے اس لئے ممکن ہے بعض وعدے نظر انداز ہو گئے ہوں بلکہ میر اغالب گمان یہ ہے کہ بعض وعدے نظر انداز ہو گئے ہیں اس لئے جن دوستوں کو ان کے وعدے پہنچ جانے کی اطلاع نہ ملی ہو وہ پھر بھیج دیں اور اس طرح ممکن ہے جو کمی ہے وہ ان وعدوں کے مل جانے پر پوری ہو جائے۔“ 1 بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف (الفضل 11 اپریل 1940ء) wwwwwww