خطبات محمود (جلد 21) — Page 479
$1940 478 خطبات محمود پہنچا دے گا اور الى رَبِّكَ مُنتَھی بھا کی صداقت ظاہر ہو جائے گی۔پر میں بیان کر رہا تھا کہ قرآن کریم کی پوری تفسیر کوئی انسان نہیں کر سکتا۔کوئی انسان کا بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جو قرآن کریم کی تفسیر بیان کر سکے۔جو کوئی کچھ بیان کرے گا وہ انسانوں کے لحاظ سے مکمل تفسیر ہو گی قرآن کریم کے لحاظ سے نہیں۔پس یہ کام ایسا نہیں کہ آسانی سے اس میں انسان ہاتھ ڈال سکے۔اور اگر ڈالے تو ذمہ داری کے بوجھ تلے دبتا نہ جائے۔مفسر پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔اس زمانہ کے بھی اور آئندہ زمانہ کے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس تفسیر نے علوم کو ختم کر دیا۔غور کرو کہ ایسا خیال دین میں کتنے بڑے رخنہ کا موجب ہو سکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ قرآنی علوم کی انتہا کو کون پہنچ سکتا ہے۔اس کا پورا علم اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے کسی نبی یا غیر نبی کو نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی بعض پیشگوئیوں کی حقیقت آنحضرت صلی للی نام پر بھی نہ کھلی ہو گی۔بعض احادیث کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے یہ حدیث غلط ہو یا اگر حدیث صحیح ہو تو ممکن ہے رسول کریم صلی یی کم پر اس کی حقیقت کا انکشاف نہ ہوا ہو۔4 اس پر مولویوں نے بہت شور مچایا کسی نے آپ کو کافر کہا کسی نے کچھ۔مگر حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی یہ ظلم پر روحانی اور دینی لحاظ سے تو سارے معارف کھل گئے لیکن جو حصہ پیشگوئیوں کے متعلق ہے خصوصاًجو آئندہ زمانوں کے متعلق تھیں اغلب بلکہ یقینی ہے کہ ان میں سے بعض کی تاویل آپ پر ظاہر نہیں ہوئی تا وہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے امتحان ہوں جسے پاس کر کے وہ خد اتعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔اسی طرح قرآن کریم کے کئی مطالب ہیں جو آج نہیں کھلے لیکن آج سے دوسو، چار سو، پانچ سو برس بعد کھلیں گے۔آج کے زمانہ کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں ان کے ظاہر ہونے پر آج ہم پھولے نہیں سماتے اور کہتے ہیں کہ جو بات ہماری سمجھ میں آئی ہے وہ پہلوں نے نہیں لکھی اور ہم آج اسے لکھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ پہلوں کے لئے اس کے لکھنے کا موقع ہی کب آیا۔مثلاً یا جوج ماجوج کے جو معنی آج ظاہر ہوئے ہیں وہ پہلے مفسر کس طرح بیان کر سکتے تھے۔وہ معذور تھے۔ان کے سامنے یہ چیز ہی نہ تھی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں سمجھ دے دی مگر یہ ہماری پہلوں پر فضیلت نہیں۔جو مطالب سمجھنے کا ان کے لئے www۔