خطبات محمود (جلد 21) — Page 478
خطبات محمود 477 $1940 ایک سمندر ہے اور اس کی تفسیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص پیالہ ہاتھ میں لے کر یہ خیال کرے کہ میں اس سے سمندر کا پانی کھینچ کر لے آؤں گا۔ظاہر ہے کہ ایسا شخص بے وقوف اور احمق ہو گا۔اسی طرح قرآن کریم ایک ایسا سمندر ہے کہ اس کے مضامین کو کوئی شخص باہر نکال ہی نہیں سکتا۔جس طرح کوئی شخص کنویں سے پینے کے لئے پانی تو لے سکتا ہے مگر پانی کو باہر نہیں لا سکتا یا سمندر سے لوٹا بھر کر تو لا سکتا ہے مگر سمندر کو نہیں لا سکتا۔سمندر کے پاس یا کنویں کے پاس اسے خود جانا پڑے گا۔کنویں یا سمندر کو وہ اپنے پاس نہیں لا سکتا۔اسی طرح قرآن کریم ایک روحانی سمندر ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص تمہیں کوئی بات اس میں سے بتا سکے اور کوئی تفسیر سنا دے مگر یہ ناممکن ہے کہ قرآن کریم کے سارے علوم بیان ہو سکیں۔اور اگر کوئی قرآنی علوم سمجھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے اسے خود ہی غوطہ لگانا پڑے گا۔ہم جب لکھتے ہیں تو ایک سے دوسرا، دوسرے سے تیسرا، تیسرے سے چوتھا اور چوتھے سے پانچواں مضمون ذہن میں آتا جاتا ہے اور اگر اسی طرح لکھیں تو پڑھنے والا پاگل خیال کرے گا کہ کہاں سے کہاں چلا گیا۔مگر اس کا ایسا خیال کرنا خود اس کے جنون کی علامت ہو گی نہ کہ ہمارے پاگل ہونے کی کیونکہ یہ سلسلہ تو اسی طرح چلتا ہے۔پانی پینے کی چیز ہے مگر جب ایک سائنس دان اسے پھاڑتا ہے تو لازماً اس کا ذہن ان دو گیسوں کی طرف جائے گا جن سے پانی مرکب ہے۔اور پھر گیسوں سے ان کی طرف جن سے وہ گیسیں بنتی ہیں اور پھر ان سے قدرتاً اس کا ذہن بجلی کی ان لہروں کی طرف منتقل ہو گا جن کی وجہ سے مختلف ذرات ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔پس خیالات کے اس سلسلہ کی وجہ سے سائنس کے محقق کو کوئی شخص پاگل نہیں کہے گا۔یہی حال قرآن کریم کی تفسیر کا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِلى رَبِّكَ مُنْتَهى ها - 3 اس کا جو بھی ٹکڑا تم لے لو اس پر غور کرتے ہوئے جس چیز کی طرف بھی تمہارا ذہن منتقل ہو گا۔ہوا، پانی، آسمان، زمین، چاند، سورج، ستارے، شیر ، ہا تھی، انسان غرضیکہ جس چیز پر بھی تم غور کرو گے آخر دیکھو گے کہ تم اپنے رب کے پاس کھڑے ہو۔یہ سلسلہ وار مضامین سب اسی لئے ہیں کہ آخر انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچاویں۔قرآن کریم کا کوئی حصہ لے لو وہ خدا تعالیٰ تک