خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 425

$1940 424 خطبات محمود یہ واقعہ ان ہزاروں لوگوں کے سامنے ہو ا جو جلوس میں شامل تھے اور ان سینکڑوں لوگوں نے دیکھا جو تماش بین کی حیثیت سے موجود تھے اور انہوں نے اس بات کو دیکھا کہ حکام اپنے فیصلہ کو منوا نہیں سکے بلکہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے رہے۔ان کے احکام کو توڑا جارہا تھا اور ان کو توفیق نہ ہوئی کہ ان کو روک سکیں۔یہ واقعہ ان ہزاروں لوگوں کے دلوں میں لازماًیہ احساس کرانے کا موجب ہوا ہو گا کہ حکام بالکل بے بس ہیں اور ان میں اپنے احکام کی تعمیل کرانے کی طاقت نہیں اور ایسے احساسات سے ملک کے آئندہ امن پر جو اثر پڑ سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔حکومت ملک میں ہونے والے فسادات پر ہمیشہ شکوہ کرتی ہے اور ہم بھی کرتے ہیں۔بلکہ ہر شریف ہندو، سکھ ، مسلمان اور احمدی کو ان پر افسوس ہے اور حکومت ان کو روکنا بھی چاہتی ہے اور اس کے لئے کوشش بھی کرتی ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ جب تک اس کے احکام کے پیچھے وہ روح نہ ہو جس کی وجہ سے نظام کا ادب لوگوں کے دلوں میں قائم ہوتا ہے امن کا قیام ممکن بھی ہے؟ اگر حکام ایسے ہی حکم دیتے رہیں جنہیں وہ منوانہ سکیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی بدنامی ہو جائے گی۔اور اس کے لئے ملک میں امن قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔پچھلے دنوں جب کانگرس نے انفرادی سول نافرمانی کا اعلان کیا تو میں نے ایک سرکاری آفیشل سے یہ بیان کیا کہ حکومت کو یہ مشورہ دینا چاہئے کہ شروع میں ہی وہ طریق عمل اختیار کرے جس پر بعد میں قائم رہ سکے۔اور اگر اس نے بعد میں اپنی بات پر قائم نہیں رہنا تو اسے چاہئے کہ کانگرس کی بات ابھی مان لے۔اس سے اس کی عزت رہ جائے گی۔لیکن اگر وہ مقابلہ کے لئے کھڑی ہو گئی اور گاندھی جی نے برت رکھ لیا اور تاریں آنے لگیں کہ ان کی جان جارہی ہے ، ان کی بات فورا مانی جائے۔اور اس لئے اسے مان لیا تو پہلے ہی اس کی کافی بے رعبی ہو رہی ہے اس سے اور بھی ہو جائے گی۔اس لئے اسے چاہیے کہ پہلے ہی سوچ لے کہ وہ مقابلہ کر سکتی ہے یا نہیں۔اگر سول نافرمانی شروع ہوئی تو گاندھی جی روزہ تو ضرور رکھیں گے اور اگر اس نے پھر اپنی بات کو چھوڑ دینا ہے تو یہی بہتر ہے کہ پہلے ہی مقابلہ شروع نہ کرے اور یا پھر یہ فیصلہ کرے کہ گاندھی جی خواہ زندہ رہیں اور خواہ مریں وہ اپنی بات پر قائم رہے گی۔اگر سول نافرمانی شروع ہوئی تو عدم تعاون کرنے والے حکومت کا مقابلہ کریں گے اور حکومت