خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 424

$1940 423 خطبات محمود اس لئے سب نے ڈر کر یہ خیال چھوڑ دیا۔وہاں ایک جو لا با زیرک اور ہوشیار آدمی تھا۔اس نے کئی دنوں تک مونچھوں کو اونچار کھنے کی مشق کی اور پھر ایک روز تلوار ہاتھ میں لے کر بازار میں ٹہلنے لگا۔کسی نے اس پٹھان کو بھی جا بتایا کہ آج ایک اور شخص بھی مونچھیں اونچی کئے پھر رہا ہے۔یہ سن کر وہ آیا جو نہی اسے دیکھا آگے بڑھ کر کہا کہ اپنی مونچھیں نیچی کرو۔یہاں میرے سوا کوئی شخص مونچھیں اونچی نہیں رکھ سکتا۔جولا ہے نے جواب دیا کہ اب تو یہاں میری مونچھیں ہی اونچی رہیں گی اور کسی کی نہیں۔پٹھان نے کہا کہ اچھا آؤ پھر تلوار سے فیصلہ کر لیں کہ کسے اونچی رکھنے کا حق ہے۔جو لا ہے نے کہا کہ اس طرح ٹھیک نہیں۔مقابلے میں دونوں میں سے ایک ضرور مارا جائے گا اور مصیبت اس کے بیوی بچوں پر پڑے گی اور وہ بھوکے مریں گے جو ظلم ہے۔پٹھان نے پوچھا کہ پھر اس کی تدبیر کیا ہے ؟ جولا ہے نے جواب دیا کہ پہلے ایسا کریں کہ تم اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ اور میں اپنوں کو مار آتا ہوں پھر فیصلہ کریں گے۔پٹھان فوراً جوش کی حالت میں چلا گیا اور جا کر سب کو قتل کر دیا لیکن جولاہا وہیں کسی دکان پر بیٹھ کر اس کا منتظر رہا۔جب وہ واپس آیا تو اس سے دریافت کیا کہ کیا تم سب کو مار آئے ہو ؟ پٹھان نے کہا کہ ہاں میں تو مار آیا ہوں۔تم بھی مار آئے ہو ؟ تو اس نے کہا کہ نہیں۔تمہارے جانے کے بعد میری رائے تو بدل گئی تھی اور لو میں مونچھیں نیچی کر لیتا ہوں۔یہی حال یہاں حکام کا ہوا ہے۔حکومت کے دبدبہ کو قائم رکھنے کے لئے حکام کا فرض یہ ہے کہ یا تو وہ کوئی حکم دیں نہیں اور اگر دیں تو پھر اس کی تعمیل کرائیں۔ایسانہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا جاتا ہے کہ حکومت ڈراوے کو مانتی ہے اور اس لئے جو دوسری قومیں ہوں ان میں بھی یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی ذرا حکومت کو ڈرائیں۔چنانچہ پچھلے سالوں میں جب حکومت کے ساتھ ہمارے اختلافات تھے ہماری جماعت کے بعض لوگ مجھے بار بار لکھتے تھے کہ آپ ہمیں کچھ کرنے کی اجازت دیں کیونکہ یہ حکومت دھمکی کے بغیر مانا نہیں کرتی۔مگر میں مشکل سے ان کو روکتا تھا اور اس اشتعال کا باعث دراصل حکام کے بعض ایسے ہی احکام تھے جن کی وہ تعمیل نہیں کراسکتے تھے۔اس موقع پر بھی اگر سکھوں کے بجائے کوئی اور قوم ہوتی تو حکام اسے ضرور مجبور کرتے کہ ہمارا حکم مانو مگر سکھوں سے وہ دب گئے۔