خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 407

$1940 406 خطبات محمود اخراجات کی بنیاد گزشتہ جلسہ جو بلی سے پہلے سال کے اخراجات پر رکھی ہے لیکن پھر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ پہلے سے زیادہ جلسہ سالانہ پر آتے ہیں اور ہر سال لوگوں کا زیادہ آنا بتاتا ہے کہ خد اتعالیٰ کے فضل سے جماعت ہر سال بڑھ رہی ہے۔اسی طرح جو بیعتوں کی فہرستیں چھپتی رہتی ہیں ان کا اندازہ لگا کر اور جو نسل بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے بھی یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ ہماری جماعت میں آٹھ دس ہزار آدمی سالانہ بڑھ جاتے ہیں۔یہ زیادتی جو ہر سال ہو رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ چاہیئے تو یہ تھا کہ آمد بھی بڑھتی جاتی مگر بجائے اس کے کہ آمد بڑھتی وہ قریباً ہر سال ایک جگہ پر ہی قائم رہتی ہے یعنی آمد پندرہ سولہ سترہ یا اٹھارہ ہزار روپیہ ہوتی ہے اور اخراجات ہمیشہ ہیں پچیس ہزار روپے ہوتے ہیں۔گزشتہ سال تو یہ اخراجات بہت زیادہ ہوئے تھے۔اس طرح ہر سال پانچ چھ ہزار روپیہ سے لے کر آٹھ دس ہزار روپیہ تک سلسلہ پر بار پڑ جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے دلوں میں جہاں جلسہ سالانہ میں شمولیت کی اہمیت ہے وہاں جلسہ سالانہ کے اخراجات برداشت کرنے کی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں حالانکہ اگر اخراجات اسی طرح بڑھتے چلے جائیں تو آئندہ جلسہ سالانہ کے انتظام میں بہت سے خطرات پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔بعض دوستوں نے انہی مشکلات کو دیکھ کر متواتر یہ مشورہ دیا ہے کہ جلسہ سالانہ پر کھانے کا انتظام جماعت کی طرف سے نہ ہو بلکہ لوگ اپنے اپنے کھانے کا انتظام خود کیا کریں۔بادی النظر میں یہ تجویز گو اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر اس طرح کیا جائے تو گو انجمن ہر سال آٹھ دس ہزار کے بار سے بچ جائے گی مگر جماعت چالیس پچاس ہزار کے مزید بار کے نیچے دب جائے گی۔کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ جو لوگ بازار سے خرید کر کھانا کھائیں گے انہیں نسبتا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا اور اس طرح جماعت ایک مزید بار کے نیچے آجائے گی۔جو لوگ چندہ دیتے ہیں وہ تو سمجھ لیں گے کہ جو کچھ انہوں نے چندہ دینا تھا وہ کھانے میں سے منہا ہو گیا لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں جن کا چندہ اخراجات جلسہ کے برابر ہو۔میر اخیال ہے کہ جلسہ سالانہ پر جتنے لوگ آتے ہیں ان میں سے دو تین سو سے زیادہ لوگ ایسے نہیں ہوتے جن کا چندہ