خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 395

$1940 394 خطبات محمود واقفیت حاصل ہو نہ صرف جائز ہے بلکہ نہایت ضروری اور مفید ہے بلکہ اگر کبھی فرصت ہو تو اس قسم کے ٹریکٹوں کو مساجد میں پڑھ کر سنا دینا چاہیئے اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہیئے کہ دوسروں نے یہ یہ اعتراض کیا ہے اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں۔مگر اس قسم کے ٹریکٹوں کا سنانا باقی تمام ضروریات پر مقدم نہیں کر لینا چاہیے یعنی یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کا درس چھوڑ دیا جائے، حدیث کا درس چھوڑ دیا جائے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس چھوڑ دیا جائے۔اسی طرح اور وعظ و نصیحت کی باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور مخالف ٹریکٹوں کو سنانا شروع کر دیا جائے یہ سخت بد دیانتی ہے کہ انسان جس مذہب میں شامل ہو اس کے متعلق تو ابھی اسے پوری واقفیت حاصل نہ ہو اور دوسروں کے لٹریچر کو پڑھنے میں ، وہ مشغول ہو جائے۔تم پہلے اپنی جماعت کے لٹریچر کو پڑھو اور جب احمدیت کے عقائد ، احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کے دلائل سے تم پوری طرح آگاہ ہو جاؤ تو پھر تمہارا حق ہے کہ دوسروں کی کتابوں کو بھی پڑھو۔اور اگر تمہیں اپنے مذہب کی تعلیم پر غور کرتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ تمہارا مذہب سچا نہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم سچائی کی کسی اور مذہب میں تلاش کرو تا کہ اگر تم سچ پر قائم نہیں تو کم از کم تم خدا سے یہ کہہ سکو کہ تم نے سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔میں اس بارہ میں جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ہر سال ایک ہفتہ ایسا منایا کریں جس میں وہ جماعت کے افراد کے سامنے مختلف تقاریر کے ذریعہ نہ صرف اپنی جماعت کے عقائد بیان کیا کریں بلکہ یہ بھی بیان کیا کریں کہ دوسروں کے کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا جوابات ہیں؟ ہر مسجد میں اس قسم کی تقریریں ہونی چاہئیں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہیے کہ لوگ یہ یہ اعتراضات کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ جوابات ہیں۔فرض کر و خلافت کا مسئلہ جس رنگ میں ہماری جماعت کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ غلط ہے تو کیوں کسی کا حق نہیں کہ وہ ہمیں سمجھائے۔یا فرض کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں تو جو شخص ہمیں سمجھاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں وہ ہمارا محسن ہے نہ کہ دشمن بشر طیکہ وہ شرارت