خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 349

$1940 348 خطبات محمود بیان کر دیتی ہے۔عربی میں نام اپنے طبعی فعل کے علاوہ اس کی خصوصیت بھی بیان کر دیتا ہے۔میرے ذہن میں آج کوئی خاص مضمون خطبہ کے لئے نہ تھا لیکن اذان سنتے ہوئے عربی زبان کی ایک ایسی ہی خصوصیت میرے ذہن میں آئی اور آج کے خطبہ کے لئے ایک مضمون میرے ذہن میں آگیا اور وہ مضمون حَيَّ عَلَى الصَّلٰوۃ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے متعلق تھا۔عربی زبان میں جہاں نام با معنی ہوتے ہیں وہاں الفاظ کے معانی میں مختلف صلوں سے بھی وسعت پیدا کر دی جاتی ہے اور لطیف اور جدید مضمون پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔چنانچہ جب مؤذن نے حَيَّ عَلَى الصَّلوة حَيَّ عَلَى الفَلَاح کہا تو مجھے خیال آیا کہ عربی میں فاصلے کے لئے ایک الی کا لفظ ہوتا ہے مگر یہاں علی آیا ہے۔چنانچہ عربی میں جب کہنا ہو کہ میں لاہور گیا تو ذَهَبْتُ إلى لا هُورَ يَا سَا فَرْتُ اِلى لاھور کہیں گے اور اِلی کا صلہ استعمال کریں گے۔یا کہنا ہو میں تیرے پاس آیا جِئْتُ اِلَیگ کہیں گے۔پس مجھے خیال آیا کہ بظاہر حق کے بعد الی کا صلہ استعمال ہونا چاہیے لیکن ہو تا علی کا صلہ ہے۔آخر عربوں نے یہ تغیر کیوں کیا اور آنے کے لئے جو اور الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کو چھوڑ کر اذان میں یہ لفظ کیوں رکھا گیا جس کا صلہ علی استعمال ہوتا ہے ؟ یہ سوال پیدا ہوتے ہی میرے دل میں اس کا یہ جواب آیا کہ علی الی سے زیادہ قرب پر دلالت کرتا ہے اور یہ مضمون پیدا کرتا ہے کہ گویا آنے والا اس چیز پر جا پڑا جس کے پاس وہ جانا چاہتا تھا۔اور یہ حالت کہ انسان دوسری شے پر جاپڑے جلدی، شوق اور بے تابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔پس نماز چونکہ ایسی اعلیٰ درجہ کی شے ہے کہ صرف آنے کی طالب نہیں بلکہ یہ چاہتی ہے کہ جس طرح کوئی عاشق محبوب کے لئے بے قرار ہو کر دوڑ پڑتا ہے اسی طرح نماز کے لئے بے تاب ہو کر آؤ اور دوڑتے ہوئے آؤ جیسے کبھی ماں دیر سے اپنے پیارے بچے کو ملتی ہے یا باپ تو وہ صرف ملتے ہی نہیں بلکہ دوڑ کر دوسرے کے سینے پر جا پڑتے ہیں۔وہ صرف گلے ملنا نہیں ہو تا بلکہ چمٹ جانا ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو جذب کر لینے کی کوشش ہوتی ہے۔وہی کیفیت اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نماز کے متعلق بندہ کے دل میں پید اہو اور اس وجہ سے اذان میں اور الفاظ کی بجائے جو بلانے کے لئے آتے ہیں حی علی کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور یہ