خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 313

$1940 312 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ایک دوست نے پوچھا کہ میں ابھی شیعیت سے نکل کر آیا ہوں اور حضرت علی کو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے افضل سمجھتا ہوں۔پس کیا اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے میں آپ کی بیعت کر سکتا ہوں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ آپ بیعت کر سکتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ چند آدمیوں کو قادیان سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا اور ان کے بارہ میں اشتہار بھی شائع کیا مگر وجہ صرف یہ تھی کہ وہ پنجوقتہ نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا۔اب بتاؤ حضرت علیؓ کو حضرت ابو بکر سے افضل سمجھنے اور حقہ پینے میں سے کون سی بات بڑی ہے؟ لازما ہر شخص یہی کہے گا کہ حضرت علی کو حضرت ابو بکر سے افضل سمجھنا بڑی بات ہے اور حقہ پینا چھوٹی بات ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بڑا اختلاف رکھنے کے باوجود ایک شخص کو اپنی بیعت کی اجازت دے دی اور حقہ پینے اور جنسی ٹھٹھا میں مشغول رہنے پر دوسروں کو مرکز سے چلے جانے کی ہدایت فرمائی حالانکہ ایک دعوت کے موقع پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا انتظام کیا تھا۔چنانچہ ترکوں کا سفیر حسین کامی جب قادیان میں آیا اور اس کے لئے دعوت کا انتظام کیا گیا تو جماعت کے خرچ پر اس کے لئے سگار اور سگریٹ منگوائے گئے۔میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مجلس میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے ذکر کیا کہ یہ لوگ سگریٹ کے عادی ہوتے ہیں اگر ہم نے کوئی انتظام نہ کیا تو اسے تکلیف ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کوئی حرج نہیں اس کے لئے سگریٹ منگو الئے جائیں کیونکہ یہ ایسی حرام چیزوں میں سے نہیں جیسے ، شراب وغیرہ ہوتی ہے۔پس آپ نے وہ چیز جو اس قسم کی حرمت نہیں رکھتی جیسے شراب اپنے مت رکھتی ہے۔استعمال کرنے پر تو ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور وہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں حضرت ابو بکر سے حضرت علیؓ کو افضل سمجھتا ہوں۔باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر حضرت علی سے افضل ہیں اسے بیعت کرنے کی اجازت دے دی۔در حقیقت بعض باتیں وقتی فتنہ کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہیں