خطبات محمود (جلد 21) — Page 312
خطبات محمود 311 $1940 میں نے جیسا کہ ابھی کہا ہے جماعت کی اصلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ خدام الاحمدیہ یا دوسری مجالس میں شامل نہ ہوئے تو ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہے گا اور انہیں جماعت سے الگ سمجھا جائے گا۔یہ فقرہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں، جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں، جو شخص بدرفیق کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں اور جو شخص اپنے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ جو شخص بھی ایسا ہو گا اسے ہم اپنی جماعت سے نکال دیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کا میرے ساتھ کوئی حقیقی تعلق نہیں ہو گا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ کبھی تو ان کی طرف سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ عجیب پیری مریدی ہے کہ مرید کے عقیدے کچھ ہوں اور پیر کے عقیدے کچھ اور۔اس کی بناء یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں میاں صاحب نے اس امر کی اجازت دے رکھی ہے کہ میرے خلاف عقیدہ رکھ کر بھی ایک شخص بیعت میں شامل ہو سکتا ہے اور کبھی یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی ایک بات بھی نہیں مانتا تو اسے جماعت سے نکال دیتے ہیں اور اس وقت حریت اور آزادی ضمیر کی کوئی پرواہ نہیں کرتے جو اسلام نے ہر مومن کو دے رکھی ہے۔حالانکہ اگر یہ اعتراض درست ہے کہ ہماری جماعت میں حریت اور آزادی ضمیر کی کوئی پروا نہیں کی جاتی تو وہ اعتراض کیوں کیا تھا کہ اس جماعت میں پیر کے عقیدے کچھ ہیں اور مریدوں کے کچھ اور۔اختلاف عقائد رکھنے کے باوجو د لو گوں کو بیعت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔اور اگر یہ درست ہے کہ بعض باتوں میں اختلاف رکھتے ہوئے بھی ایک شخص ہمارے نظام میں شامل رہ سکتا ہے تو اس اعتراض کے کیا معنے ہوئے کہ حریت اور آزادی ضمیر کو کچل دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نظام کی درستی کے لئے اتحادِ خیالات کا ایک دائرہ ہو تا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک اختلاف بڑا نظر آئے لیکن اگر وہ کسی فتنے کا موجب نہ ہو تو اس اختلاف رکھنے والے کو جماعت میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے لیکن ایک دوسرا شخص خواہ اس سے کم اختلاف رکھتا ہو لیکن اس کا اختلاف کسی فتنے کا موجب ہو تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے۔