خطبات محمود (جلد 21) — Page 264
$1940 263 خطبات محمود جائیں گے کہ مولوی محمد علی صاحب کے زمانہ صحابیت کے عقائد اور تھے اور آج اور ہیں۔یہ نہایت آسان طریق ہے اور بہترین طریق ہے۔اگر وہ اس پر متفق ہوں تو فیصلہ نہایت آسان ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسا مباحثہ ہو گا جو گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت ساتھ رکھتا ہو گا۔باقی رہا جزئیات یا تفاصیل کا سوال کہ اس وقت کسی حوالہ کا علم نہ تھا اور وہ اب ملا ہے یا کہ اس وقت کسی لفظ کے معنی محقق نہ تھے جو اب ہوئے ہیں یہ غیر ضروری چیزیں ہیں۔اصل سوال عقیدہ کا ہے کہ اس وقت کیا تھا۔میر اعقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتی نبی ہیں جس کے معنے ہیں کہ وہ نبی بھی ہیں اور ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللی نیم کے امتی بھی۔اور وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتی نبی ہیں ان معنوں میں کہ وہ امتی تو ہیں مگر نبی نہیں ہیں۔میں ان کی تحریروں میں سے یہ نکال دوں گا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کیا عقیدہ رکھتے تھے اور وہ میری تحریروں سے نکال دیں کہ اس زمانہ میں میرا عقیدہ کیا تھا۔اور اس طرح فیصلہ نہایت آسان ہو جائے گا۔پچیس سال سے یہ جھگڑا چل رہا ہے لیکن اگر مولوی صاحب میری اس تجویز پر عمل کریں تو فیصلہ آسانی سے ہو سکتا ہے۔اگر وہ اس آسان طریق کو ماننے کو بھی تیار نہ ہوں تو ان کی مرضی۔زمانہ خود ہی صداقت پر سے پردہ اٹھاتا جائے گا۔اس بارہ میں ایک لطیفہ بھی میں بیان کر دینا چاہتا ہوں۔مولوی محمد علی صاحب کے ساتھیوں میں سے ایک معزز نوجوان اس مجلس شوری کے موقع پر یا شاید جلسہ سالانہ پر قادیان آئے تو چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ان کے سامنے چند حوالے پڑھنے شروع کئے کہ یہ ہمارے عقائد ہیں۔اور وہ حوالے سنا کر انہوں نے بتایا کہ یہ مولوی محمد علی صاحب کی تحریروں کے اقتباس ہیں۔تو وہ کہنے لگے ہمیں تو مولوی صاحب نے کبھی نہیں یہ بتایا کہ پہلے ان کے عقائد یہ تھے۔پس فیصلہ کا آسان طریق یہی ہے کہ میں ان کی تحریروں کے وہ حوالے پیش کر دیتا ہوں جن سے ظاہر ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتے تھے اور وہ میرے ایسے حوالے پیش کر دیں جن سے ان کے نزدیک یہ نکلتا ہے کہ میں اس زمانہ میں آپ کو نبی نہیں سمجھتا تھا۔اور پھر اگر اس زمانہ کی بعض تحریروں سے ان حوالہ جات پر کوئی ایسی روشنی