خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 258

$1940 257 خطبات محمود کسی کے فیصلہ کے کوئی معنی ہی نہیں۔دینی امور میں فیصلہ ہر شخص اپنی ذات کے لئے خود کرتا ہے۔ہم میں سے جو لوگ اس وقت جماعت میں شامل ہیں انہوں نے خود اپنے متعلق فیصلہ کیا تھا۔کیا پہلے کوئی دس اشخاص کا بورڈ مقرر ہوا تھا جس نے فیصلہ کیا کہ مرزا صاحب اپنے دعاوی میں سچے ہیں اور پھر انہوں نے مانا تھا ہر گز نہیں۔عقائد کے بارہ میں دس تو کیا سو آدمیوں کا بورڈ ہو تو بھی انسان کے دل کو تسلی نہیں ہو سکتی۔اس لئے دینی امور میں فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ انسان کے ضمیر کو تسلی ہو جائے اور دل مان لے۔دوسروں کے فیصلہ کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔کیا آج بھی کروڑوں لوگ ایسے نہیں جو یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب ( نَعُوذُ بِالله ) سچے نہیں ہیں مگر کیا ہم ان کے اس فیصلہ کو مان لیتے ہیں یار ڈی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔اور جب دل آپ کی صداقت پر مطمئن ہو جاتا ہے تو تسلیم کر لیتے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک ایسا ہے جس نے کروڑوں انسانوں کے فیصلہ کو رڈ کیا اور صرف اپنی ضمیر اور دل کے فیصلہ کو درست مانتے ہوئے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا ہے۔تو دینی امور میں دوسروں کے فیصلہ کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے۔ہاں دنیوی معاملات میں ان کو مان لیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی نہ مانے تو سب اسے یہی کہتے ہیں کہ قوم کی اکثریت کے فیصلہ کو کیوں چھوڑتے ہو۔دنیوی امور میں اُخروی زندگی پر اثر نہیں پڑتا۔ان کا تعلق صرف اس عارضی زندگی سے ہوتا ہے اس لئے اگر اس میں غلطی بھی ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں۔مگر دین کا تعلق چونکہ اخروی زندگی سے ہے اس لئے دینی امور کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی قاضی یا حج مقرر نہیں کیا جاسکتا۔پس اگر مولوی محمد علی صاحب چاہتے ہیں کہ اپنی جماعت میں سے ان کے منتخبہ پانچ اور ان کی جماعت میں سے اپنے منتخبہ پانچ اشخاص سے میں اپنے عقائد کا فیصلہ کر اؤں اور پھر اسے مان لوں یا اسے دنیا کے سامنے پیش کروں تو میں اس کے لئے ہر گز تیار نہیں۔دینی عقائد کا فیصلہ ہمیشہ انسان کی کانشنس ہی کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کے سامنے اسی کے فیصلہ کے مطابق انسان اپنے ایمان کا اقرار کرتا ہے۔اگر تو وہ جھوٹ کہتا ہے تو اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا لیکن اگر بچے طور پر داخل ہوتا ہے تو اگر اس کا فیصلہ غلط بھی ہو گا تو خدا تعالیٰ کی بخشش اسے ڈھانپ لے گی۔دنیوی امور میں فیصلہ کا یہی طریق آدم سے لے کر اب تک چلا آتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی قاعدہ نہیں