خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 205

$1940 205 خطبات محمود طرف ہے۔یمنی اور عدنی خانہ کعبہ سے تعلق پیدا کرنا چاہیں تو ان کا رستہ شمال کی طرف ہے۔دمشق، شام اور فلسطین کے لوگ خانہ کعبہ سے اپنا تعلق پیدا کرنا چاہیں تو ان کا رستہ جنوب کی طرف ہے اور اگر ایسے سینیا، نیروبی اور ممباسہ وغیرہ کے لوگ خانہ کعبہ سے اپنا تعلق پیدا کرنا چاہیں تو ان کا رستہ مشرق کی طرف ہے۔غرض دنیا میں مختلف آدمی ہیں اور ہر ایک کے لئے الگ الگ رستہ مقرر ہے۔اگر ایک ہندوستانی یہ کہے کہ جب میں نیروبی میں تھا تو مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتا تھا اب ہندوستان میں آکر میں مغرب کی طرف کیوں منہ کروں تو وہ خدا تعالیٰ کی حکم عدولی کرنے والا ہو گا۔اسی طرح اگر ہندوستان کے رہنے والے نیروبی اور ممباسہ میں جائیں اور کہیں کہ ہم مغرب کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھیں گے مشرق کی طرف منہ نہیں کریں گے تو ان کی نماز نہیں ہو گی کیونکہ اس وقت ان کا رستہ مشرق کی طرف ہے نہ کہ مغرب کی طرف۔یہی حال باقی جہات کا ہے۔پھر جہات کے علاوہ کونے ہیں۔کوئی شمال مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے اور کوئی جنوب مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے، کوئی شمال مغرب کی طرف اپنامُمنہ کرتا ہے اور کوئی جنوب مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے۔پھر کونے در کونے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان سے جہات بہت کچھ بدل جاتی ہیں۔ہندوستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جن کا قبلہ کچھ جنوب کی طرف ہے مگر ہندوستان میں بالعموم مغرب کی طرف مساجد کا محراب بنادیا جاتا ہے اور یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ قبلہ کا صحیح رخ کون سا ہے حالانکہ اگر پنجاب سے ایک سیدھی لکیر کھینچی جائے تو اس کے عین مغرب میں دمشق آئے گا خانہ کعبہ نہیں آئے گا۔خانہ کعبہ پنجاب سے کچھ جنوب کی طرف ہے اور اگر پندرہ ڈگری کے قریب جنوب کی طرف جھکا جائے تب خانہ کعبہ صحیح سمت میں آتا ہے ورنہ نہیں۔بہر حال چونکہ جہت کا پورا اندازہ عام حالات میں ناممکن ہوتا ہے اس لئے علماء نے اندازہ کی خفیف غلطی پر کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر ملک کے اندر کئی کئی ٹکڑے ہوتے ہیں۔ہندوستان کے ہی بعض ٹکڑے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والوں کا منہ اگر نماز کے وقت عین مغرب کی طرف ہو تو صحیح طور پر قبلہ کی طرف ہو گا لیکن