خطبات محمود (جلد 21) — Page 189
خطبات محمود 189 $1940 ہماری جماعت کے لوگوں میں یہ وہم ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں ہماری جماعت ہمیشہ پھولوں کی سیج پر ترقی کرتی چلی جائے گی۔جو لوگ منافق طبع ہیں وہ تو کچھ بھی خیال نہیں کرتے، وہ سمجھتے ہیں ان کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ روٹی کمائی کھائی اور زندگی کے دن پورے کر لئے مگر جو لوگ مخلص ہیں وہ اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ ہماری جماعت مشکلات میں سے گزرے بغیر اس ترقی کو حاصل کر لے گی جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے حاصل کی۔میں اس ناواقفیت اور تجاہل کے متعلق کیا کہوں؟ مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اس غلط فہمی میں کیوں مبتلا ہیں؟ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے صاف ظاہر ہے کہ جماعت احمد یہ بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے گزرے گی۔وہ ابتلاء سیاسی بھی ہوں گے ، وہ ابتلاء اقتصادی بھی ہوں گے ، وہ ابتلاء مالی بھی ہوں گے ، وہ ابتلاء علمی بھی ہوں گے ، وہ ابتلاء قومی بھی ہوں گے۔غرض ہر قسم کے ابتلاؤں کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں ہے۔حکومتوں کی طرف سے تشدد اور جھگڑوں کا بھی ان الہامات میں ذکر ہے، اقوام کی طرف سے تشدد اور سختیوں کا بھی ان میں ذکر ہے۔بعض سیاسی ابتلاؤں کا بھی الہامات میں ذکر ہے، بعض ہجرتوں کا بھی ذکر ہے، اسی طرح قتلوں اور طرح طرح کے دکھوں سے جماعت احمدیہ کے ستائے جانے کا بھی ذکر ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ میں نے بار بار کہا ہماری جماعت کے دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو پڑھنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور جو پڑھتے ہیں ان میں یہ مرض ہے کہ وہ سارے الہامات گزرے ہوئے واقعات پر چسپاں کر دیتے ہیں اور یہ ایک نہایت ہی خطر ناک نقص ہے۔میں نے ایک دفعہ ایک دوست کو ایک زلزلہ کے متعلق مضمون لکھنے کے لئے کہا تو انہوں نے زلزلوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام الہامات اس ایک زلزلہ پر ہی چسپاں کر دیئے۔میں نے انہیں کہا کہ اس کے تو یہ معنے ہوئے کہ آئندہ کسی زلزلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی الہام نہیں رہا۔غرض بہت سے الہامات آئندہ رونما ہونے والے واقعات کے متعلق ہوتے ہیں مگر ہم غلطی سے ان الہامات کو کسی گزرے ہوئے واقعہ پر چسپاں کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔