خطبات محمود (جلد 21) — Page 172
$1940 172 خطبات محمود 25 کی صبح کو اس کا یہ تار دینا بتاتا ہے کہ اس سے پہلی رات وہ ایسا فیصلہ کر چکا تھا جو اسے فرانس کا مخالف بنا دینے والا تھا۔اس لئے وہ نہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے فرانس میں رہیں۔میرا یہ الہام رات کے قریباً ایک دو بجے کے درمیان کا ہے اور یورپ کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وہاں نو بجے رات کا وقت تھا۔معلوم ہوتا ہے اس نے اسی وقت یہ فیصلہ کیا تھا اور اس کے ماتحت اس نے 25 کو یہ تار دیا کہ میرے بچے فرانس سے سپین بھیج دیئے جائیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے چندے اور دوسرے مطالبات جو ہیں ان کے متعلق میں ہر سال ایک جلسہ کرایا کرتا ہوں جس میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ایک تو اس سے پہلے پہلے جماعتیں اپنے تمام چندے یا ان کا اکثر حصہ ادا کر دیں اور دوسرے ان جلسوں میں تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق تقریریں کی جاتی ہیں تا جماعت میں جو لوگ نئے جوان ہوئے ہیں وہ آگاہ ہو سکیں۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ باتیں کئی سال سے دُہرائی جاتی ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ جو باتیں انسان پر بوجھ ہوتی ہیں وہ متواتر یاد دلانے سے ہی یا درہ سکتی ہیں ورنہ اگر دس سال کے بعد بھی یاد نہ دلایا جائے تو بھول جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز کا حکم بار بار دیا ہے۔لا إلهَ إِلَّا الله اور اللہ اکبر کے کلمات دن میں کئی بار دہرانے کا حکم دیا ہے جو ہمارے عقیدہ کا اعلان ہیں اور ان کو دن میں کئی کئی بار دہرایا جاتا ہے تا دنیا کو پتہ لگتا ر ہے اور علم ہو تا رہے کہ اب بھی ہماری دینی حالت وہی ہے جو صبح تھی۔انسانی حالت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔رسول کریم صلی الیم نے اس زمانہ کے متعلق خصوصیت سے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ انسان رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کافر اٹھے گا اور رات کو کافر سوئے گا اور صبح مومن اٹھے گا۔1 پس اس زمانہ میں جبکہ ایسے ایسے جلد تغیرات کی پیشگوئی آنحضرت صلی ا ہم نے فرمائی ہے بار بار یاد دہانی کی ضرورت واضح ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ مصری صاحب پہلے تو ایسے اچھے تھے اب انہیں کیا ہو گیا؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ جو شخص پوشیدہ چالیں چلتا ہو اس کے حالات کا علم تو ایک عرصہ کے بعد ہی ہوا کرتا ہے۔دوسرے انہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ تو پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔اگر ایسے تغیرات نہ ہوں تو پیشگوئی کیسے پوری ہو