خطبات محمود (جلد 21) — Page 167
$1940 167 خطبات محمود بعینہ اسی طرح جر من لشکر نے جب حملہ کیا تو وہ پیرس تک پہنچ گیا مگر پھر اسے واپس لوٹنا پڑا اور جب سرحد پر واپس لوٹ آیا تو وہاں اس نے ٹرنچز (Trenches) بنالیں اور اس کے اندر بیٹھ گئے اور اس طرح چار پانچ سال تک وہاں لڑائی ہوتی رہی۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جب چاہتا ہے غیب کی خبریں دیتا ہے۔اس جنگ کے متعلق تو اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر امور غیبیہ کا اظہار کیا ہے کہ پچھلی جنگ میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں تھا۔اور میں دیکھ رہا ہوں کہ واقعات ویساہی رنگ اختیار کر رہے ہیں۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس الہام کو کسی اور رنگ میں بھی پورا کر دے کیونکہ بعض دفعہ الہام کئی کئی رنگوں میں پورا ہو جاتا ہے۔مگر بہر حال اس وقت تک جو واقعات ظاہر ہوئے ہیں ان سے یہی سلی معلوم ہوتا ہے کہ ایبڈی کیٹڈ سے مراد جیم کے بادشاہ کا عملاً معزول کیا جانا تھا جو بعد میں ممکن ہے اعلان کے ذریعہ سے بھی معزول کر دیا جائے۔ابتداء میں جب مجھے یہ الہام ہوا تو میں حیران ہوا کہ نہ معلوم اس سے کون سا بادشاہ مراد ہے۔پہلے خیال آیا کہ کہیں اس سے ہمارے بادشاہ ہی مراد نہ ہوں۔پھر خیال آیا کہ ممکن ہے سابق کنگ ایڈورڈ ہشتم مراد ہوں۔ایک اور بادشاہ کی طرف بھی بعض دوستوں کا ذہن منتقل ہوا مگر واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ الہام یجیئم کے بادشاہ کے متعلق تھا۔چنانچہ اس نے جرمن فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اس کی قوم نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہے جس کے ہم ذمہ دار نہیں وہ عملی طور پر اب بادشاہت سے الگ ہے اور اس کے حکم کو ماننا ہم پر واجب نہیں۔تو مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف نگاہ رکھنی چاہیئے اور بجائے اس کے کہ انسان یہ معلوم کرنے کا شائق رہے کہ جرمن براڈ کاسٹ کیا کہتا ہے۔اسے خدا تعالیٰ کا ریڈیو سننے کی کوشش کرنی چاہیئے۔1914ء میں اسی مسجد میں میں نے الہام کی تھیوری بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا الہام ہر وقت نازل ہوتا رہتا ہے اور انسانی دماغ میں ایسی کلیں موجود ہیں کہ جن سے اگر کام لیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کی آواز کو سن سکتا ہے۔اس وقت ریڈیو کا نام ونشان بھی نہ تھا اور میں نے سادہ زبان میں مفہوم بیان کر دیا تھا کہ انسان کے دماغ میں ایسی کل موجود ہے کہ جسے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف پھر ایا جائے تو اللہ تعالیٰ کے الہام کو وہ سن سکتا ہے۔پس انسان کیوں نہ