خطبات محمود (جلد 21) — Page 157
$1940 157 خطبات محمود قوم کسی شہر کی فتح کا اعلان کر دے جب تک دوسری قوم اس کے مقابلہ میں لڑ رہی ہو اس وقت تک وہ اس کی فتح کو تسلیم نہیں کرتی مگر ہندوستانی ان باتوں کو تو جانتا نہیں اور وہ آپ ہی آپ جس سے منافرت ہو اس کے خلاف خبر کو لے دوڑتا اور اسے لوگوں میں پھیلانا شروع کر دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ اس قسم کی خبروں کے پھیلنے کی وجہ سے آج ملک میں بغاوت کے آثار نظر آرہے ہیں۔چنانچہ میں نے ”رسول“ میں پڑھا ہے کہ سکھوں نے اعلان کیا ہے کہ بارہ ڈویژن کی قومی فوج بھرتی کی جائے۔مطلب یہ کہ سکھ ڈیڑھ لاکھ کی فوج تیار کرنا چاہتے ہیں اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں سے خاکسار بھرتی ہو رہے ہیں اور وہ اپنی ایک الگ فوج بنارہے ہیں۔گویا ہمارے ملک کے لوگوں کی وہی مثال ہو رہی ہے کہ۔آب نه دیده موزه از پا کشیده پانی کے آثار ابھی نظر نہیں آئے اور جرابیں ابھی سے اتارنی شروع کر دی گئی ہیں۔آپ ہی آپ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ برطانیہ و فرانس کو جرمنوں کے مقابلہ میں شکست ہو گئی ہے۔انہوں نے گیلے کو بھی فتح کر لیا، انہوں نے ڈنکرک کو بھی فتح کر لیا، انہوں نے فلنڈرز کو بھی جیت لیا، انہوں نے انگلستان کے دارالحکومت پر بھی قابو پالیا، انہوں نے پیرس بھی لے لیا اور اب انگریز جرمنوں کے مقابلہ میں بھاگتے چلے جارہے ہیں۔اسی طرح یہ بھی فرض کر لیا گیا کہ ہندوستان میں ان کی کوئی طاقت نہیں رہی اور حکومت بالکل بے دست و پا ہو گئی ہے۔اس لئے آؤ اب ہم لوٹ مار شروع کر دیں۔اس قسم کے خیالات کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلا کرتا۔اور ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ ان حالات کو درست کرنے کی کوشش کرے اور ملک میں امن قائم رکھنے کی خاطر اس قسم کی باتوں سے احتراز کرے۔ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ انگریز انشاء الله نہیں ہاریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے لیکن اگر ہم سے ان باتوں کے سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو بھی وہ وقت بہت دُور ہے بلکہ جنگ میں برطانیہ و فرانس کو اب پہلے سے بہت زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل ہو چکی ہے۔اس مہینہ کی چودہ تاریخ کو کس طرح سمجھا جاتا تھا کہ شاید ایک یا دودن میں انگریز اور فرانسیسی ہتھیار ڈال دیں گے اور کس طرح عام طور پر یہ احساس تھا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کے لئے