خطبات محمود (جلد 21) — Page 152
1940 152 خطبات محمود اثر ہے کہ ان کی خبریں زیادہ صحیح ہوتی ہیں اور جرمن کی خبروں میں نسبتا زیادہ جھوٹ ہوتا ہے اور میں تو سمجھتا ہوں اگر کوئی عقلمند انسان صرف ان خبروں کو لے لے جو جرمنی سے ریڈیو کے ذریعہ ہندوستان کے متعلق نشر کی جاتی ہیں تو وہ ان کو سن کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ ان کی خبروں میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے۔چند مہینے کی بات ہے کہ جرمنی سے ریڈیو کے ذریعہ یہ خبر سنائی گئی کہ پنجاب میں سخت بغاوت پھوٹ پڑی ہے جگہ جگہ ڈا کے پڑرہے ہیں اور انگریزوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔حالانکہ ان دنوں چند وزیریوں نے سرحد افغانستان پر کوئی ڈاکہ ڈالا تھا جو ایک معمولی بات تھی مگر اسے پنجاب اور تمام صوبۂ سرحد پر پھیلا کر اس رنگ میں بیان کیا گیا کہ گویا پنجاب اور سرحد میں طوائف الملوکی کی حالت ہو گئی ہے۔تو لوگ عام طور پر جرمنی کی خبروں کو زیادہ وقعت دے دیتے ہیں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبروں کو اپنی نادانی سے غلط سمجھتے ہیں اور پھر ان خبروں کو بھی ایسے مبالغہ آمیز رنگ میں بیان کرتے ہیں کہ بات کچھ کی کچھ بن جاتی ہے اور یہ ہمارے ملک میں عام دستور ہے کہ لوگ بات کو بڑھا کر کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں۔مثلاً فرض کرو ایک شخص نے کسی بات پر غصہ میں آکر دوسرے کو چپیڑ مار دی اب کوئی دوسرا شخص جو اس کے رشتہ دار کو خبر دینے جائے گا تو وہ یہ خبر نہیں دے گا کہ فلاں نے اسے چپیڑ ماری بلکہ وہ جاتے ہی کہے گا کہ اس نے مار مار کے اس کا بھر کس نکال دیا ہے اور اگر اتفاق سے وہ کوئی دور کارشتہ دار ہوا اور بھائی یا کسی اور قریبی رشتہ دار کو یہ خبر اس نے پہنچائی ہے تو وہ وہاں جا کر یہ نہیں کہے گا کہ فلاں نے اسے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا ہے بلکہ وہ کہے گا کہ وہ تمہارا رشتہ دار کوئی دم کا مہمان ہے اور اگر ابھی ماں یا باپ رہتے ہوں اور انہیں یہ خبر نہ پہنچی ہو تو یہ نیا خبر رساں انہیں جا کر یہ نہیں کہے گا کہ وہ مضروب کوئی دم کا مہمان ہے بلکہ یہ روتا ہوا جائے گا اور کہے گا کہ تمہارے لڑکے کو فلاں شخص نے مار دیا ہے۔غرض یہاں معمولی خبر بڑھتے بڑھتے کچھ کی کچھ بن جاتی ہے۔ذرا خبر بنی اور مبالغہ آمیزی کے ساتھ اسے کچھ کا کچھ بنادیا۔یہاں تک کہ پتہ ہی نہیں چلتا اصل بات کیا ہوئی۔میں نے تم کو کئی دفعہ اپنے سامنے کا ایک واقعہ سنایا ہے۔ایک دفعہ جماعت سے