خطبات محمود (جلد 21) — Page 102
1940 102 خطبات محمود کی نماز کے وقت میں بیت الفکر کے پاس کے دالان میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا۔مسجد بھری ہوئی تھی اور حضرت خلیفہ اول کی آمد کا انتظار کیا جارہا تھا کہ میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ وہ مسجد میں بڑے جوش سے کہہ رہے ہیں ہم کسی بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں۔ایک بچہ کے لئے جماعت میں فتنہ پیدا کیا جارہا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ اسے خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کر دیں۔میں اس وقت ان حالات سے اتنانا واقف تھا کہ میں ان کا یہ فقرہ سن کر سخت حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ یہ بچے کا ذکر کیا شروع ہو گیا ہے اور وہ کون سابچہ ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔اس کے متعلق بھی مجھے بعد میں حضرت خلیفہ اول سے ہی معلوم ہوا کہ بچہ سے ان کی کیا مراد ہے اور وہ اس طرح کہ اس روز صبح کی نماز کے بعد میں بھی بعض باتیں لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے پاس لے گیا اور گفتگو کے دوران میں میں نے ذکر کیا کہ خبر نہیں آج مسجد میں کیا باتیں ہو رہی تھیں کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے ایک بچہ کی ہم بیعت کس طرح کر لیں ؟ ایک بچہ کی وجہ سے جماعت میں یہ تمام فتنہ ڈالا جا رہا ہے نہ معلوم یہ بچہ کون ہے۔حضرت خلیفہ اول میری اس بات کو سن کر مسکرائے اور فرمانے لگے تمہیں معلوم نہیں وہ بچہ کون ہے ؟ وہ تمہیں تو ہو۔خیر اس کے بعد میٹنگ ہوئی۔اس میٹنگ کے متعلق بھی میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا جو حضرت خلیفہ اول کو میں نے سنا دیا تھا اور دراصل یہی رؤیا بیان کرنے کے لئے میں صبح کے وقت حضرت خلیفہ اول کے پاس گیا تھا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہو رہا ہے اور حضرت خلیفہ اول تقریر فرما رہے ہیں مگر آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنوایا تھا۔اس حصہ مسجد میں کھڑے نہیں ہوئے جو بعد میں جماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے ہیں اور میں آپ کے دائیں طرف بیٹھا ہوں۔آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رقت آگئی اور بعد میں کھڑے ہو کر میں نے بھی تقریر کی جس کا خلاصہ قریباً اس رنگ کا تھا کہ آپ پر ان لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کو سخت دکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی سچے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار