خطبات محمود (جلد 21) — Page 101
$1940 خطبات محمود 101 اول کے ہیں اور کہتے کہ الحمد للہ فتنہ ابھی ظاہر ہو گیا اور سب کو معلوم ہو گیا کہ ایک بچہ کو خلیفہ بناکر بعض لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ وہ میری ویسی ہی اطاعت کرتا ہے جیسے نبض حرکت قلب کی کرتی ہے۔2 ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں اس سوال کا پیدا ہو جانا بڑی بابرکت بات ہے۔ان کے بعد ہو تا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔گویا جماعت کو یہ یقین دلایا جانے لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور یہ کہ ان خیالات میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی ان سے متفق ہیں۔لاہور میں تو خصوصیت سے خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر ایک جلسہ کیا جس میں تمام جماعت لاہور کو بلایا گیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ پر یہ ایک ایسا نازک وقت ہے کہ اگر دوراندیشی سے کام نہ لیا گیا تو سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت (نعوذ باللہ ) تباہ ہو جائے گی اور سب لوگوں سے اس بات پر دستخط لئے گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مطابق انجمن ہی آپ کی جانشین ہے اور لاہور کی جماعت نے انہی تاثرات کی وجہ سے کہ حضرت خلیفہ اول کے بھی یہی خیالات ہیں اس پر دستخط کر دیئے۔صرف (اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے) حکیم محمد حسین صاحب قریشی مرحوم نے ان کی اس بات کو بالکل رڈ کر دیا اور کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اس پر دستخط نہیں کر سکتے۔یہ تمہارے خیالات ہیں حضرت خلیفہ اول شخص کے خیالات نہیں اور ہم ایسے محضر نامہ پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں۔ہم جب ایک کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھنے والا ہے تو جو کچھ وہ کہے گا وہی ہم کریں گے تمہارے خیالات کی ہم تصدیق نہیں کریں گے۔چنانچہ ان کی دیکھا دیکھی ایک دو اور دوست بھی رک گئے مگر بہر حال لاہور کی اکثر جماعت نے دستخط کر دیئے۔آخر حضرت خلیفہ اول نے ایک تاریخ مقرر کی جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان کو بھی بلایا اور ہدایت فرمائی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائمقام قادیان میں جمع ہو جائیں تاسب سے اس کے متعلق مشورہ لے لیا جائے۔چنانچہ لوگ جمع ہوئے۔اس دن صبح