خطبات محمود (جلد 21) — Page 52
خطبات محمود 52 * 1940 اب کیا حالت ہے کہ اگر ایک غیر احمدی مولوی جھوٹ بولتا ہے تو سب اس کی تائید الله سة شروع کر دیتے ہیں۔مگر ابوسفیان سمجھتا تھا کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو میرے ساتھی اسے برداشت نہیں کریں گے اس لئے صاف طور پر اقرار کیا کہ محمد (صلی ا ) بڑے اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں۔قیصر نے دریافت کیا کہ کیا اس نے کبھی کوئی معاہدہ کر کے اسے خود ہی توڑ بھی دیا ہے ؟ ابوسفیان نے کہا کبھی نہیں۔پھر اس نے پوچھا کیا اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا بڑھ رہے ہیں۔پھر قیصر نے دریافت کیا کہ اس کا تعلق کیسے خاندان سے ہے ؟ ابو سفیان نے کہا بڑے اعلیٰ خاندان سے۔قیصر نے دریافت کیا کہ اس کے ساتھ شامل ہونے والا کوئی شخص اس وجہ سے بھی الگ ہوا ہے کہ اسے اسلام کے اصول پسند نہیں آئے ؟ کسی شکوہ شکایت لڑائی جھگڑے کی وجہ سے علیحدگی اور بات ہے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ کیا کوئی ایسا شخص بھی علیحدہ ہوا ہے جسے اسلام کے عقائد پسند نہ آئے ہوں؟ ابوسفیان نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔1 تو اس زمانہ میں سچائی عام تھی مگر آج جھوٹ عام ہے۔مجھے ہمیشہ اس واقعہ سے حیرت ہوتی ہے رسول کریم صلی لا نام ایک مرتبہ وحی لکھ رہے تھے۔کاتب وحی لکھ رہا تھا۔ایک مقام پر پہنچ کر کاتب کے منہ سے فوراً یہ فقرہ بے اختیار نکل گیا کہ فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ - اتفاقا اگلی آیت یہی تھی۔اس لئے رسول کریم لی ایم نے فرمایا کہ بس یہی الہام ہے لکھ لو۔اس بات پر اسے ٹھوکر لگ گئی۔اس نے سمجھا کہ میر افقرہ پسند آ گیا تو اسے ہی الہام میں داخل کر لیا اور وہ مرتد ہو کر مخالفوں میں جا ملا۔مخالف ہونے کے بعد وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ اور بھی ایسے فقرے مجھ سے آپ قرآن کریم میں لکھوا لیتے رہے ہیں۔2 مگر نہیں وہ صرف یہی ایک واقعہ بیان کرتا تھا۔تو عرب بحیثیت قوم جھوٹے نہ تھے مگر آج حالات بالکل مختلف ہیں۔آج اگر کوئی شخص مرتد ہو تو وہ فوراً کچھ کی کچھ بات بنادے گا۔الله سة لکھوا ایک دفعہ یہاں ایک شخص طالب علم کی حیثیت سے حیدرآباد سے آیا۔آج وہ لیڈر بنا ہوا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد یہاں کسی سے اس کا جھگڑا ہو گیا اور وہ لاہور جا پہنچا۔جھگڑا اس کا غالباً ہوسٹل والوں سے ہوا تھا مگر لاہور جا کر اس نے اعلان کیا کہ میں قادیان گیا تھا۔