خطبات محمود (جلد 21) — Page 476
$1940 475 خطبات محمود نفس اسے کہے گا تمہیں خود بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔اسی طرح جب ایک شخص یہ دعا کرے گا کہ دوسروں کو مالی قربانیاں کرنے کی توفیق ملے تو اس کا نفس اسے کہے گا کہ دوسروں کے لئے جب دعا کرتے ہو تو تم بھی ایسا ہی کرو۔پس جو دوست دوسروں کے لئے دعا کریں گے ان کے نفس میں تغیر پیدا ہو کر انہیں خود بھی نیکی کرنے کی توفیق حاصل ہو جائے گی۔تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ دعائیں نفس کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ جو شخص دوسروں کے لئے کوئی دعا مانگتا ہے خود بھی چاہتا ہے کہ ایسا ہی بنوں اور یہی تحریک کسی نیکی کے حاصل کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔اسی طرح باہر کے دوست جب دوسروں کے لئے یہ دعا کریں گے کہ خدا تعالیٰ انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں قادیان جانے کی توفیق عطا کرے تو ان کا نفس انہیں کہے گا کہ جب دوسروں کے لئے جانے کی توفیق طلب کرتے ہو تو خود بھی اس پر عمل کرو۔غرض دعا ایک طرف تو اپنے نفس کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا باعث۔اور جب یہ دونوں باتیں حاصل ہو جائیں تو کامیابی میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔میں اس سے زیادہ اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس وقت میری یہ حالت ہے کہ مجھے متلی ہو رہی ہے ، منہ کڑوا ہے، سردی لگ رہی ہے اور اتنا بولنا بھی دو بھر ہے۔میں پھر ان دونوں باتوں کے لئے دعائیں کرنے کی تحریک کرتا ہوں یعنی خدا تعالیٰ جلسہ سالانہ تک مجھے تفسیر القرآن کے کام کو خیر و خوبی اور صحت کے ساتھ ختم کرنے کی توفیق دے اور جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں انہیں اپنے فضل اور رحم سے اپنے پاس سے اجر عطا فرمائے۔اسی طرح مقامی احمدیوں کو اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق بخشے۔باہر کے دوستوں کو قادیان آنے اور دوسروں کو ساتھ لانے کی توفیق دے تاکہ آنے والا جلسہ سابقہ جلسوں کی نسبت زیادہ کامیابی کے ساتھ منعقد ہو اور یہ ثابت ہو کہ خدا تعالیٰ کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ان سے بندوں کو وافر سے وافر برکتیں اور نصیحتیں ملتی رہتی ہیں اور ملتی رہیں گی۔“ (الفضل 17 دسمبر 1940ء)