خطبات محمود (جلد 21) — Page 464
$1940 خطبات محمود 463 والے کیمیا دان تو ملیں گے مگر کیمسٹری کا ماہر کوئی نہیں۔یہاں بھی ایک دوست رہا کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔وہ جوانی میں اسی سونا بنانے کے خبط میں مبتلارہے تھے۔آخری عمر میں کئی دفعہ ان کی مدد کی گئی لیکن ادھر ان کو کوئی روپیہ دیا جاتا سکتا؟ ادھر وہ بھٹی چڑھا دیتے کہ شاید اب کے سونا بن جائے۔ان کے ایک بھائی بھی ان کی کرتے تھے مگر ان سے بھی جو کچھ ملتا وہ اس میں صرف کر دیتے تھے۔جن لوگوں کو یہ ڈھن ہوتی ہے وہ ساری عمر اسی میں ضائع کر دیتے ہیں مگر سونا نہیں بنتا۔مگر انگریزوں نے سونا چھوڑ ہیرے بنالئے ہیں۔وہ بوٹ بناتے ہیں، چھریاں، چاقو اور ہزاروں دوسری چیز میں بناتے ہیں اور پھر ان سے ہزاروں روپیہ کماتے ہیں۔کوئی شخص اگر کیمیا کے ذریعہ سونا بنا بھی لے تو کتنا بنا سکتا ہے مگر انگریزوں نے سونا چھوڑ ہیرے بنالئے ہیں۔مسلمانوں نے ان علوم کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور میر ادل چاہتا ہے کہ وہ پھر اس طرف متوجہ ہوں اور اسلامی علوم کا دوبارہ احیاء کیا جائے اور چونکہ جو لوگ دنیاوی کاموں میں لگ جاتے ہیں ان کے لئے دین کی طرف آنا مشکل ہو جاتا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی ایک الگ جماعت تیار کی جائے۔پس جن نوجوانوں نے سائنس لے کر میٹرک کا امتحان تعلیم الاسلام ہائی سکول سے پاس کیا ہو اُن کو بھی لیا جا سکتا ہے۔ایسے نوجوانوں کے والدین اور رشتہ دار اگر ان کی مزید تعلیم کا بوجھ برداشت کر سکیں تو وہ اپنی تعلیم مکمل کریں۔جن کو پورا خرچ دینے والا کوئی نہ ہو ان کو ہم مدد دے کر تکمیل تعلیم کرائیں گے۔اور جن کے لئے بالکل ہی خرچ کا انتظام نہ ہو سکے ان کو اپنے خرچ پر تعلیم دلوائیں گے۔تا ایک جماعت ایسی پیدا ہو جو اپنی جماعت میں بھی اور دوسروں میں بھی اپنے علم اور صنعت و حرفت میں ترقی کی بناء پر اس طرف توجہ پیدا کر سکے۔پس گریجوایٹ یا انٹرنس پاس مولوی فاضل کی شرط میں یہ استثنیٰ ہے اور ان شرائط کے ماتحت میں پھر اعلان کرتا ہوں کہ نوجوان اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کریں اور ثواب کے اس غیر معمولی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔یوں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے ہمیشہ ہی کھلے رہتے ہیں مگر انبیاء کے زمانہ میں ایسے کھلتے ہیں کہ دوسرے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔انبیاء کے زمانہ میں غیر معمولی طور پر یہ دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اس زمانہ کی قربانیاں بہت قیمت رکھتی ہیں۔