خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 446

$1940 445 خطبات محمود وجہ سے باوجو د توفیق کے انہوں نے اس میں حصہ لینا ضروری نہیں سمجھا۔انہیں اس کے متعلق اب کچھ کہنا فضول ہے۔اور جن کو اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق ہی نہیں وہ معذور ہیں۔اور انہیں بھی کچھ کہنا لا حاصل ہے۔اگر وہ اس تحریک میں شامل ہونے کی سچی خواہش اور تڑپ رکھتے ہیں مگر غربت اور مالی تنگی کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکتے تو خدا تعالیٰ کے حضور بھی اور اس کے سمجھ دار بندوں کے نزدیک بھی وہ انہی لوگوں میں شامل ہیں جو باقاعدہ چندہ دیتے ہیں کیونکہ گو انہیں توفیق نہیں کہ وہ اس میں حصہ لے سکیں مگر ان کے دل اپنی اس محرومی پر دُکھتے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ کاش ان کے پاس روپیہ ہو تا اور وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوتے۔پس چونکہ خدا جانتا ہے کہ وہ بہانہ نہیں بنارہے بلکہ محض غربت کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکے اور ان کے دل اپنی اس محرومی پر دکھ رہے ہیں۔اس لئے خدا انہیں انہی لوگوں میں شامل کرے گا جنہوں نے اس میں حصہ لیا۔وہ ایسا نہیں کہ محض اس وجہ سے کہ کسی شخص نے عملاً حصہ نہیں لیا اسے ثواب سے محروم کر دے۔خد اتعالیٰ کی طرف سے ثواب قلب کی حالت پر آتا ہے ظاہری فعل پر نہیں آتا۔ظاہری فعل تو محض ایک دلیل ہوتا ہے جیسے آگ جب جل رہی ہو تو اس میں سے دھواں نکلتا ہے۔یہ دھواں اس بات کی دلیل ہو تا ہے کہ آگ جل رہی ہے۔اگر دھویں کے بغیر بھی آگ ہو سکتی تو ہم دھوئیں کو نہ دیکھتے بلکہ محض آگ کو دیکھتے۔اسی طرح عمل بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ایمان کا دھواں عمل ہے اور ب یہ دھواں اٹھ رہا ہو تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایمان کی آگ فلاں شخص کے دل میں موجود ہے اور جب یہ دھواں نہیں اٹھتا تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایمان کی آگ فلاں شخص کے قلب میں نہیں۔اسی کی طرف شاید قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وَ العَمَلُ الصَّالِحَ يَرْفَعُهُ 3 کہ عمل صالح ایمان کو بلند کرتا ہے اور عمل صالح سے ہی کسی کے ایمان کا پتہ لگتا ہے۔جس طرح دھوئیں سے آگ کا پتہ لگتا ہے۔تو ایسے لوگ جن کو اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق نہیں مگر ان کے دل میں بار بار درد اٹھتا ہے اور انہیں اس بات پر افسوس آتا ہے کہ دوسرے لوگ تو حصہ لے رہے ہیں مگر وہ