خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 420

$1940 419 خطبات محمود پر میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلا چکا ہوں کہ ان چندوں میں زیادہ جوش سے حصہ لینے کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیئے کہ جلسہ سالانہ پر آنے میں لوگ سستی سے کام لیں۔ہماری جماعت کا ہر قدم خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے اور جتنی جماعت بڑھتی چلی جاتی ہے اتنی ہی قادیان میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔بے شک یہ ایک بوجھ ہے مگر آخر ہم نے ہی اس بوجھ کو اٹھانا ہے اور یہی وہ بوجھ ہیں جن کے اٹھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل ہوا کرتی ہیں۔دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ہم کسی کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں تو وہ ہم پر خوش ہوتا ہے اسی طرح جب ہم خدا تعالیٰ کے دین کا بوجھ اٹھائیں گے تو خدا اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی ہمارے تمام بوجھ اٹھالے گا۔جب دنیا میں تمہارا کوئی بوجھ اٹھاتا ہے تو تم اسے مزدوری دیتے ہو ، پھر تم کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ تم خدا کے لئے اس کے دین کا بوجھ اٹھاؤ اور وہ تمہیں کوئی مزدوری نہ دے۔خدا تعالیٰ اس بوجھ کے اٹھانے کی ہمیشہ اپنی جماعتوں کو مزدوری دیتا چلا آیا۔اور دیتا چلا جائے گا اور اس کی مزدوری یہی ہے کہ جب ہم اس جہان میں اس کے دین کے بوجھ کو اٹھاتے ہیں تو وہ اگلے جہان میں ہمارے بوجھ اٹھا لیتا ہے۔جہاں دائمی اور ابدی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔یہ کتنا سستا سودا ہے کہ ہم اپنی عمر کے تیس یا چالیس یا پچاس یا ساٹھ سال اس کا بوجھ اٹھائیں اور وہ لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں ارب سال کی زندگی میں ہمارے تمام بوجھ خود اٹھالے۔اگر اتنے سستے سودے کی طرف بھی کسی کو توجہ نہیں ہوتی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے دل پر زنگ لگ چکا ہے اور اب اس کے لئے دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں اور خدا ہی ہے جو اس کے اس زنگ کو دور کرے۔پس اگر کوئی شخص دین کے اس کام کے لئے بھی اپنے دل میں بشاشت نہیں پاتا تو اسے سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہیے کہ وہ وضو کرے اور نفل پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اے خدا! دین کے کاموں کے متعلق میرے دل میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اور نہ دین کا بوجھ اٹھانے کی مجھے توفیق ملتی ہے تو اپنے فضل سے میرے دل میں دین کے کاموں کے لئے رغبت پیدا کر اور مجھے ان بوجھوں کے اٹھانے کی توفیق عطا فرما تا کہ قیامت کے دن تو خود میرے تمام