خطبات محمود (جلد 21) — Page 332
$1940 331 خطبات محمود اولی الامر کی اطاعت کرو لیکن اس میں بعض دفعہ ایک بگاڑ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ غلطی سے اولی الامر یہ خیال نہیں کرتے کہ لوگوں پر ان کی جو اطاعت فرض ہے وہ اُولیسی الأمر ہونے میں ہے، زید اور بکر ہونے میں نہیں، زید اور بکر ہونے میں تو رسول کی اطاعت بھی نہیں۔یوں تو رسول کا مقام ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی حکم دیتا ہے کہ اس کی اطاعت کرو مگر خدا نے انہیں جو حق دیا ہے وہ ہر بات میں نہیں اور نہ ہر بات میں انہوں نے کبھی اپنے حق کا اظہار کیا ہے۔مثلار سول کریم مالی کیم کو یہ حق نہیں تھا اور نہ آپ نے کبھی ایسا دعوی کیا کہ کسی کی بیٹی کا اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح کر دیں۔اسی طرح آپ نے کبھی کسی سے نہیں کہا کہ اپنا مکان فلاں کو دے دو بلکہ آپ نے ان امور میں ان کے اختیارات کو بحال رکھا۔چنانچہ رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں ایک لڑکی جو غلام تھی اور اس کا خاوند بھی غلام تھا کچھ عرصہ کے بعد آزاد ہوئی تو اسے شریعت کے ماتحت اس امر کا اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے غلام خاوند کے نکاح میں رہے اور چاہے تو نہ رہے۔اتفاق کی بات ہے بیوی کو اپنے خاوند سے شدید نفرت تھی اور ادھر خاوند کی یہ حالت تھی کہ اسے بیوی سے عشق تھا۔جب وہ آزاد ہوئی اور غلام نہ رہی تو اس نے کہا کہ میں اب اس کے پاس نہیں رہ سکتی۔خاوند کو چونکہ اس کے ساتھ شدید محبت تھی اس لئے جہاں وہ جاتی وہ پیچھے پیچھے چلا جاتا اور رونا شروع کر دیتا۔رسول کریم صلى الم نے اسے اس حالت میں دیکھا تو آپ کو رحم آیا اور آپ نے اس لڑکی سے کہا کہ اگر تم اس کے پاس رہو تو تمہارا کیا حرج ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ؟ آپ نے فرمایامشورہ ہے حکم نہیں۔کیونکہ اب تم آزاد ہو چکی ہو اور شریعت کی طرف سے تمہیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ چاہو تو تم اپنے غلام خاوند کے پاس رہو اور چاہو تو نہ رہو۔اس نے کہا يَا رَسُولُ اللہ ! اگر یہ آپ کا مشورہ ہے تو پھر میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔مجھے اس سے نفرت ہے۔4 تو ذاتی معاملات میں رسول کریم صلی ا تم کبھی دخل نہیں دیتے تھے۔اسی طرح خلفاء نے بھی کبھی ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیا۔خود میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا آپ جہاں چاہیں نکاح پڑھا دیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر باوجود اس کے کہ آج تک مجھے سینکڑوں لوگوں نے ایسا کہا ہو گا میں نے