خطبات محمود (جلد 21) — Page 326
$1940 325 خطبات محمود کے افعال کی ذمہ داری ان پر نہیں آسکتی۔اگر ان کا بیٹا مجرم ثابت نہ ہو تا تو ان کی عزت زیادہ ہو جاتی نہ کہ کم۔چونکہ وہ ایسے مقام پر ہیں کہ ان کے فعل سے دوسرے بھی غلطی کر سکتے ہیں اس لئے مجھے یہ بات کہنی پڑی۔میں آدھی رات کے وقت دفتر سے کام کر کے گھر آیا میری بیوی بیمار تھیں انہوں نے کہا کہ آپ نے کچھ سنا؟ میں نے کہا نہیں۔وہ کہنے لگیں کہ بچے گھبر ائے ہوئے آئے تھے کہ بھائی عبد الرحمن صاحب کی تلاشی ہو رہی ہے۔میں نے تکلیف کے ساتھ رات گذاری اور صبح اٹھتے ہی تحقیقات شروع کرادی اور ان کے آنے سے پہلے جس حد تک میر افرض تھا تحقیقات مکمل کر چکا تھا اور اپنے ذہن میں ایک نتیجہ پر پہنچ چکا تھا۔پس ان کو تو میرے پاس آنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔شکایت لے کر تو وہ آتا ہے جسے اعتبار نہ ہو۔جسے اعتبار ہو وہ شکایت کرتاہی نہیں۔ایسے معاملہ کے متعلق شکایت کی ضرورت ہوتی ہے جو مخفی ہو یا پھر وہ شکایت کرتا ہے جس کے دل میں گھبراہٹ ہو لیکن یہاں تو میں ان کے آنے سے قبل اپنے ذہن میں اس فیصلہ پر پہنچ چکا تھا کہ کمیشن بٹھا کر اس معاملہ کی تحقیقات کراؤں گا۔اس کے بعد میں پھر امور عامہ اور دوسرے محکموں کو یہ نصیحت کرتاہوں کہ وہ اس لئے بنائے گئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور شعائر اللہ کی عزت قائم کریں۔اس لئے نہیں کہ بے احتیاطی کے ساتھ ان چیزوں کے خلاف کوئی اقدام کریں۔کسی شخص کا ناظر امور عامہ ہونا یا میر ارشتہ دار ہونا اسے کسی سر زنش یا سزا سے نہیں بچاسکتا۔سلسلہ کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے ایسے لوگوں کو سزا دینا میرا فرض ہے۔خواہ وہ کوئی ہو۔میرا رشتہ دار حقیقی وہی ہے اور حقیقی کارکن بھی وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خدام اور سلسلہ کی عزت قائم کرے۔جو سلسلہ کی عزت قائم نہیں کرتا، صحابہ کی عزت قائم نہیں کرتا اور کارکنوں کی عزت قائم نہیں کرتا وہ میر ا دوست یا رشتہ دار ہر گز نہیں۔تمام محکموں کو چاہیے کہ ہر کام میں اس بات کو مد نظر رکھیں جس طرح قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ تم جدھر سے بھی جہاد کے لئے نکلو تمہارا منہ قبلہ کی طرف ہونا چاہیے۔2 اسی طرح ہمارے محکمے بھی جو کام کریں اس میں یہ بات مد نظر رکھیں کہ سلسلہ، سلسلہ کے کارکنوں اور خدام کی عزت قائم