خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 256

$1940 255 خطبات محمود کوئی ایسی چیز نہیں ملتی کہ خدا تعالیٰ کے سامنے میرے عقائد کے متعلق کوئی دوسرا شخص جوابدہ ہو سکے گا۔خدا تعالیٰ کے سامنے میرے عقائد کے متعلق نہ کوئی بھائی جوابدہ ہو سکتا ہے نہ بیٹا اور نہ بیوی اور نہ کوئی اور عزیز۔اس کے لئے میں خود ہی جوابدہ ہو سکتا ہوں۔میرے عقیدہ کا سوال میرے ہی لئے ہے اور میں اس میں کسی دوسرے کا فیصلہ کیوں قبول کروں اور اس سے یہ معلوم کروں کہ میر اعقیدہ غلط ہے یا صحیح ؟ جو اسے غلط سمجھتا ہے وہ تو پہلے ہی اسے غلط کہتا ہے اور جو صحیح سمجھتا ہے وہ پہلے ہی صحیح سمجھتا ہے۔پھر فیصلہ کرنے کے وقت کون سی کوئی ایسی نئی بات مولوی صاحب پیش کریں گے کہ وہ اپنا خیال تبدیل کر لے گا۔آخر ایسے پہنچ انہی لوگوں میں سے مقرر کئے جاسکتے ہیں جو عالم ہوں اور جو عالم ہیں انہوں نے پہلے ہی کافی غور کر لیا ہوا ہے۔وہ اپنے خیال کو تبدیل کیونکر کر سکیں گے۔یا تو مولوی صاحب اعلان کریں کہ انہوں نے کوئی ایسے نئے حوالے دریافت کئے ہیں جو پہلے پیش نہیں ہوئے اور اگر یہ بات نہیں تو پھر پہلے ہی حوالوں سے وہ لوگ اپنے عقیدہ کو کس طرح تبدیل کر لیں گے جو ان پر سالہا سال تک غور کر چکے ہیں اور عَلَى وَجْهِ الْبَصِيرَت اپنے ایمان پر قائم ہیں اور جو لوگ ایسے نہ ا ہوں وہ میرے نمائندے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ یا کیا پھر مولوی صاحب ایسے لوگ چنیں گے جن کو پہلے ان حوالوں کا بھی پتہ نہیں جو آئے دن پیش ہوتے رہتے ہیں۔اگر یہی بات ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ گویا دو عالموں پر چند جاہل فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کئے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگ کیا فیصلہ کر سکیں گے۔پھر کسی انسان کے فیصلہ کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔عقیدہ کے معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کہا ہے اور ہماری جماعت میں سے ان کے بچنے ہوئے پانچ آدمی تو در کنار اگر سو فیصدی جماعت بھی اس کے خلاف فیصلہ کرے تو میں کبھی نہیں مانوں گا بلکہ صاف کہہ دوں گا کہ تم لوگ جدھر مرضی ہے جاؤ میر ا عقیدہ یہی رہے گا۔پس میں کسی کا یہ حق نہیں سمجھتا خواہ اسے مولوی محمد علی صاحب نے ہماری جماعت سے بچنا ہو یا میں نے ان کے گروہ سے کہ میرے عقائد کے متعلق فیصلہ کرے کہ صحیح ہیں یا غلط اور جب میں اسے جائز ہی نہیں سمجھتا تو اس طریق کو اختیار کیسے کر سکتا ہوں اور جس فیصلہ کی