خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 123

1940 123 خطبات محمود انہیں کہا کہ کمروں کی صفائی ہو رہی ہے اور اس وقت گردو غبار اڑ رہا ہے صفائی ہو لے تو میں ان کو بلوالوں گا۔انہیں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے جا کر یہ بات کہی تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اس دوران میں ہم مقبرہ بہشتی و غیرہ دیکھ آتے ہیں۔چنانچہ وہ چلے گئے اور میں نے ساتھ مل کر جلدی جلدی مکان کو صاف کیا اور پھر گھنٹی بجائی۔پرائیویٹ سکرٹری آئے تو میں نے انہیں کہا کہ اب انہیں ملاقات کے لئے لے آئیے۔وہ کہنے لگے ابھی تو وہ آئے نہیں جب آئیں گے تو میں اطلاع کر دوں گا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد وہ آگئے اور میں نے انہیں ملاقات کے لئے بلا لیا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک ان سے باتیں کرتا رہا۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے ان سے ان دنوں میں ملاقات کی جبکہ سب دوستوں سے ملاقاتیں بند ہیں اور باوجود اس کے کہ میں نے ان کے لئے اپنے وقت میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قربان کیا اور باوجود اس کے کہ میں نے انہی کی خاطر جلدی جلدی مکان کو صاف کرایا اور خود بھی اس صفائی میں شریک ہو گیا اور گردو غبار میں میں نے انہیں اس لئے نہ بلایا کہ انہیں تکلیف ہو گی انہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ چونکہ ملاقات کرنے میں انہوں نے دیر لگائی تھی اس لئے معلوم ہوا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی۔اگر یہ اصول درست ہے تو اس کے بعد ہمارا بھی حق ہو گا کہ مولوی محمد علی صاحب سے اگر کوئی مبائع ملنے کے لئے جائے اور وہ نہ ملیں یا ملنے میں دیر لگا دیں تو ہم کہہ دیں کہ مولوی محمد علی صاحب نے شراب پی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے دیر لگادی۔اور اگر رسول کریم صل ال نام کی اس سنت پر کہ آپ عطر ملا کرتے تھے اور عطر کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ وہ مجھے بہت ہی محبوب ہے عمل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عطر لگانے والے نے شراب پی ہوئی ہے تو پھر ہمارا بھی حق ہو گا کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کو جب عطر لگائے ہوئے دیکھیں کہہ دیں کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی جس کی بو کو دور کرنے کے لئے انہوں نے عطر لگالیا۔حالانکہ عطر وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا میں جو چیزیں محبوب ہیں ان میں ایک عطر بھی ہے 6 مجھے بھی عطر بڑا محبوب ہے اور میں ہمیشہ کثرت کے ساتھ عطر لگایا کرتاہوں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں بخاری ہاتھ میں لئے حضرت خلیفہ اول سے پڑھنے کے لئے جا رہا تھا کہ