خطبات محمود (جلد 21) — Page 100
1940 100 خطبات محمود جلانے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس پھونس کو آگ لگادیں۔میں یہ دیکھ کر ان کی طرف دوڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے انہوں نے بھوسے کو آگ لگادی میں یہ دیکھ کر آگ میں کود پڑا اور جلدی سے اسے بجھا دیا مگر اس عرصہ میں چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔میں نے جب یہ رویا دیکھا تو حیران ہوا کہ نہ معلوم اس کی کیا تعبیر ہے۔ان دنوں میں حضرت خلیفہ اول سے بخاری پڑھا کرتا تھا اور مسجد مبارک کو گلی میں سے جو سیڑھیاں چڑھتی ہیں ان کے پاس ہی آپ دروازہ کے پاس مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔میں نے ایک خط لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے سامنے پیش کیا جس میں لکھا کہ رات میں نے یہ عجیب خواب دیکھا ہے جو جماعت کے متعلق معلوم ہوتا ہے مگر ہے مندر۔مجھے معلوم نہیں اس کی کیا تعبیر ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے اس خواب کو پڑھتے ہی میری طرف دیکھ کر فرمایا خواب تو پوری ہو گئی۔میں حیران ہوا کہ خواب کس طرح پوری ہو گئی۔چنانچہ میں نے عرض کیا کہ کس طرح؟ آپ فرمانے لگے میاں تمہیں معلوم نہیں۔اور یہ کہہ کر کاغذ کی ایک سلپ پر آپ نے لکھا۔میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوادیے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس سے خوب آگ لگے گی۔مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے کیا سوالات کئے ہیں لیکن میں نے ادب کی وجہ سے دوبارہ آپ سے دریافت نہ کیا۔البتہ بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب اور بعض اور دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا۔بعد میں جب جماعتوں کی طرف سے ان کے جوابات آگئے اور بعض میں نے دیکھے تو اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق تھے اور ان میں اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔میر صاحب کے ان سوالات کی وجہ سے جو گویا ٹھس میں آگ لگانے کے مترادف تھے جماعت میں ایک شور پیدا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں یہ تو معلوم ہی ہو گیا تھا کہ جماعت کو بیعت کرنے کے بعد خلافت سے پھر انا سخت مشکل ہے اس لئے اب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہی خیالات (نعوذ بالله ) حضرت خلیفہ