خطبات محمود (جلد 21) — Page 96
* 1940 96 خطبات محمود خلاف انہوں نے تقریریں کیں تو لوگوں میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کی اصل غرض حضرت خلیفہ اول کو خلافت سے جواب دینا ہے اور ان کی نیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تعلیم کو جماعت میں قائم کرنا نہیں بلکہ فتنہ وفساد اور تفرقہ پیدا کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء جب وفات پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے بعد نشان کے طور پر خلافت کو قائم کیا کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس نے نبی کی شخصی زندگی کو الہام سے شروع کیا اسی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو بھی الہام سے شروع کرے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نبی فوت ہو تا ہے تو خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بھی ان لوگوں کے دل اس قدر مرعوب اور خائف ہو گئے تھے کہ اس وقت یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ اب کسی خلیفہ کے بغیر جماعت کا اتحاد اور اس کی ترقی ناممکن ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کا انتخاب عمل میں آیا۔یوں منہ سے ان لوگوں کا اپنے آپ کو یا صد را مجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلیفہ اور جانشین کہنا اور بات ہے۔سوال تو یہ ہے کہ انجمن کے یہ ممبر جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلیفہ اور جانشین قرار دیتے تھے وہ دل گردہ کہاں سے لاتے جو خداوند تعالیٰ کے خلیفہ کے لئے ضروری ہے۔منہ سے تو ہر شخص جو جی چاہے دعوی کر سکتا ہے خواہ حقیقت اس کے اندر کوئی ہو یا نہ ہو۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا جسے بہادری کا بہت بڑا دعویٰ تھا۔ایک دفعہ اس نے اپنی بہادری کے نشان کے طور پر اپنے بازو پر شیر گودانا چاہا۔وہ گو دنے والے کے پاس گیا اور کہنے لگا میرے بازو پر شیر گودو۔اس نے کہا بہت اچھا اور یہ کہہ کر اس نے سوئی جو ماری تو اسے درد ہوا اور کہنے لگا یہ کیا کرنے لگے ہو ؟ اس نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔وہ کہنے لگا شیر کا کون ساحصہ ؟ اس نے بتایا کہ دایاں کان۔اس نے کہا اگر دایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگارہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر اس دائیں کان کو چھوڑو اور آگے گو دو۔اس نے پھر دوسرا کان بنانے کے لئے سوئی ماری تو اسے پھر درد ہوا اور یہ پھر چلا کر کہنے لگا اسے چھوڑو اور آگے چلو۔اس نے اسے بھی چھوڑا۔اس کے بعد جس عضو کے بنانے کے لئے وہ سوئی مار تاتو یہ شخص چلا کر