خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 65

$1940 65 خطبات محمود اتنی قبولیت حاصل کس طرح ہو گئی ؟ ابتدائی حالت میں مسلمانوں کی طاقت ہی کیا تھی؟ اُس وقت صرف اڑھائی مسلمان ہی تھے۔یعنی ابو بکر، خدیجہ اور علی جو صرف گیارہ سال عمر کے تھے۔حضرت خدیجہ ایک عورت تھیں اور عورت نصف مرد کے برابر سمجھی جاتی ہے۔اس طرح گل اڑھائی ہوئے۔اس وقت جب آنحضرت صلی ال نیم کہتے ہوں گے کہ ہم مسلمانوں کی جماعت دنیا پر غالب آجائے گی تو ان کی مراد انہی اڑھائی مسلمانوں سے تھی یعنی حضرت ابو بکر ایک جوان آدمی، حضرت علی گیارہ سال کا بچہ اور خدیجہ ایک عورت۔اور ان اڑھائی مومنوں کی اس بات کو سن کر یہودی جو اس وقت تمام دنیا کی تجارت پر قابض تھے ، دمشق میں بھی ان کی تجارت تھی، مصر، فلسطین اور ایران کی تجارت پر بھی وہی قابض تھے ، تمام بادشاہوں کے دربار میں ان کو عزت حاصل تھی۔جوہری بھی یہودی تھے اور کپڑے کے تاجر بھی وہی تھے۔ہندوستان تک ان کی تجارت اور شہرت پھیلی ہوئی تھی۔اس وقت ان کا ذلیل سے ذلیل آدمی بھی مسلمانوں کا یہ فقرہ سن کر مسکرا دیتا ہو گا اور سمجھتا ہو گا کہ ان کا دماغ خراب ہو چکا ہے کہ یہ اپنے غلبہ کے خواب دیکھ رہے ہیں اور دنیوی نقطۂ نگاہ سے وہ ایسا خیال کرنے میں بالکل حق بجانب تھے کیونکہ کُجا اڑھائی کروڑ کے قریب وہ لوگ جن کے قبضہ میں ساری دنیا کی تجارت تھی اور کجا یہ اڑھائی مسلمان۔اور جب رسول کریم صلی ا ہم کہتے ہوں گے کہ “ہم مسلمانوں کی جماعت تو جس حقارت سے ایک عیسائی یا ایک یہودی اس پر مسکراتا ہو گا اس کا اندازہ ہم ہی کر سکتے ہیں، دوسرے نہیں کر سکتے۔اسی طرح قریش کے لوگ بھی ان مسلمانوں سے رتبہ میں بہت بڑے تھے۔مسلمانوں کی اس وقت حیثیت ہی کیا تھی؟ حضرت علی بچہ تھے اور رسول کریم صلی الی یوم کے گھر میں رہتے تھے۔آپ نے چونکہ پہلے ان کے گھر میں پرورش پائی تھی اس لئے حضرت علی کو اپنے ہاں رکھ لیا تھا کہ یہ میرے ہاں کھایا پیا کرے گا۔حضرت ابو بکر بے شک تاجر تھے مگر ایسے تاجر کہ کپڑے کی گٹھڑیاں پیٹھ پر اٹھا کر دیہات میں جا کر بیچا کرتے تھے۔گویا پھیری کرنے والے تاجر تھے۔آپ کے پاس چند ہزار روپیہ ضرور تھا مگر کوئی بڑے امیر نہ تھے۔آپ کی ایک پھیری والے اچھے تاجر کی حیثیت تھی اور بعض پھیری کرنے والے بھی متمول ہوتے ہیں۔آپ خود کپڑا اٹھا کر بیچنے جایا کرتے تھے یا ایک دو غلام رکھے ہوتے تھے