خطبات محمود (جلد 21) — Page 477
1940ء 476 (34) تفسیر القرآن کا کام نہایت ہی اہم ہے )فرمودہ 20 دسمبر 1940ء( خطبات محمود تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی دماغ کی بھی عجیب بناوٹ ہے۔ بعض اوقات اس کے خیالات کا تسلسل آپ ہی آپ اس کی زبان کے ذریعہ سے جاری ہو جاتا ہے۔ میں جو اس وقت خطبہ کے لئے کھڑا ہوا تو میرا ارادہ تفسیر القرآن کے متعلق کچھ کہنے کا تھا۔ وہ مضمون دماغ میں آرہا تھا اور اس غلبہ کی وجہ سے تلاوت کرتے وقت اختتامی کلمات ذہن سے نکل گئے اور الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 زبان پر جاری ہو گیا۔ بہر حال یہ الحمد للہ کہنے کا ہی کام ہے۔ اگر یہ صحیح ہو اور اگر اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو ورنہ اگر انسان خدا تعالیٰ کے کلام کی غلط تشریح کرنے لگے تو اس کے لئے بہت خطرے کا مقام ہے۔ اس کے لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ 2 آخر میں رکھا گیا ہے۔ جس کے بار بار پڑھنے سے انسان کے گناہوں کا ازالہ ہوتا ہے۔ تفسیر کا کام بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ واقعہ یہ ہے یہ ہے کہ اگر اس میں دیر ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ فطر فطرتا میں اس سے بہت گھبراتا ہوں اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی ٹڑا ہمالیہ پہاڑ کو اٹھانے کی کوشش کرے اور میں نے مجبوراً اور جماعت کے اندر اس کے لئے شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے اس میں ہاتھ ڈالنے کی جرات کی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس کے لئے مجبور ہوا ہوں ورنہ قرآن کریم کی تفسیر ایسا کام نہیں جسے مومن دلیری سے اختیار کر سکے۔ قرآن کریم تو