خطبات محمود (جلد 21) — Page 467
$1940 466 خطبات محمود جیسے انسان دریا کے ایسے کنارے پر چلے جو اندر دھنستا جا رہا ہو اور گرتا جاتا ہو۔ظاہر ہے کہ ایسے کنارے پر کوئی ظاہر بین کبھی عمارت نہیں بنایا کر تا کیونکہ دریا کا پانی وہاں غار بنارہا ہو تا ہے۔ایسی جگہ عمارت بنانا کسی ہمت والے کا ہی کام ہے۔پس یہی وقت قربانی کا ہے۔جو نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں چاہیئے کہ ان کا اخلاق اور عملی نمونہ اچھا ہو اور وہ پختہ عزم کر کے آئیں۔میری غرض ان واقفین سے یہ ہے کہ ان میں سے ہی قاضی تیار کروں۔ان میں سے ہی مفتی تیار کروں اور ان میں سے ہی مدرس ہوں۔ان میں سے ہی مرتی اور تعلیم و تربیت دینے والے ہوں۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جو نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں وہ اخلاقی طور پر اپنے آپ کو مفید وجود بنائیں۔جب ان میں سے کسی کو قاضی بنایا جائے تو وہ ایسا نمونہ دکھائے کہ لوگ تسلیم کریں کہ وہ انصاف سے کام کرتا ہے۔جب کسی کو مفتی بنایا جائے تو لوگ محسوس کریں کہ اس نے جو فتویٰ دیا ہے صحیح ہے اور جب کوئی مرتی بنے تولوگ محسوس کریں کہ وہ جو بات بھی کرتا ہے خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر کرتا ہے نہ کہ دشمن کو زیر کرنے کے لئے۔یہ نہ ہو کہ وہ نفسانی رو میں بہہ جائے۔دراصل تمسخر وہی کرتا ہے جو دلیل نہیں دے سکتا۔یہ چیز اس کی علمی کمی کا ثبوت ہوتی ہے۔بے شک لطیفہ گو اور تمسخر کرنے والا بعض اوقات مجلس پر چھا جاتا ہے لیکن اس مجلس سے نکلنے کے بعد اس کے اپنے دل پر بھی اور سامعین کے دل پر بھی زنگ لگا ہوا ہوتا ہے۔بے شک اس وقت وہ مجلس کو خوش کر لیتا ہے مگر جب وہاں سے نکلتا ہے تو خدا تعالیٰ کو چھوڑ چکا ہوتا ہے اور شیطان اس کی گردن پر سوار ہو چکا ہو تا ہے۔حقیقی مبلغ وہی ہے جس کے دل میں ہار جیت کا کوئی سوال نہ ہو۔جس کو ہر وقت یہ خیال رہے کہ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہو۔کئی دفعہ پہلے بھی یہ واقعہ میں سنا چکا ہوں۔جس زمانہ میں مولوی محمد حسین صاحب تعلیم حاصل کر کے بٹالہ آئے تو ان کے خلاف بہت شور تھا کہ پیروں فقیروں کے منکر ہیں۔لوگ ان کی بہت مخالفت کرتے تھے۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے گئے۔بعض حنفیوں نے سوچا کہ ہمارے ایک حنفی عالم آگئے ہیں ان کو مولوی